Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

شخصیت کی تعمیر

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

نے عائشہ صدیقہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ (مسند احمد، حدیث نمبر 25177)۔ یعنی، تم چھوٹے گناہوں سے بچو۔ ان دونوں روایتوں سے ایک نہایت اہم بات معلوم ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی کو اُن گناہوں سے بھی بچنے کا شدید اہتمام کرنا چاہیے جن کو لوگ معمولی سمجھتے ہیں اور بار بار اُس میں ملوث ہوتے رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس طرح کی عادت عورت یا مرد کو گناہوں کے بارے میں غیر حساس بنا دیتی ہے۔ اور جو عورت یا مرد چھوٹے گناہ کے بارے میں حساس کھودے وہ آسانی سے بڑے گناہ میں بھی مبتلا ہو جائے گا۔ ایک موقع پر آپ نے دعا مانگی: اے اللہ، مجھے مسکین زندہ رکھ اور حالت مسکینی ہی میں موت دے، اور مسکینوں کے ساتھ قیامت میں اٹھا (اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ۔ عائشہ صدیقہ نے عرض کیا کہ یہ کیوں ، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا کہ مسکین، دولتمندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ اے عائشہ، تم کسی کو خالی ہاتھ واپس نہ کرنا، اگر چہ وہ چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ مسکینوں سے محبت رکھو اور اُن کو اپنے پاس جگہ دیا کرو: یا عَائِشَةُ لاَ تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2352)۔ مذکورہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرِ اسلام اور عائشہ صدیقہ کے درمیان صحبت کا جو تعلق تھا وہ سادہ طور پر متکلم اور سامع کا تعلق نہ تھا۔ بلکہ وہ دو طرفہ گفتگو اور تبادلۂ خیال کا تعلق تھا۔ یہ گویا ایک قسم کا مذاکرہ تھا۔ اس مذاکرہ کے دوران باتوں کی وضاحت ہوتی تھی۔ سوال و جواب کی صورت میں معاملہ کے مختلف گوشے واضح ہوتے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page