Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں رسول کے چار کام بتائے گئے ہیں جن میں سے ایک تزکیہ (آل عمران، 3:164) ہے۔ تزکیہ سے مراد کوئی پر اسرار (mysterious) چیز نہیں۔ وہ ایک معلوم چیز ہے۔ اس سے وہی چیز مراد ہے جس کو ذہنی ارتقاء (intellectual development) کہا جاتا ہے۔ ذہنی ارتقاء ہی کے ایک نتیجہ کا نام روحانی ارتقاء ہے۔ عائشہ صدیقہ کو یہ تمام فکری اور روحانی فائدے پیغمبرِ اسلام سے مسلسل استفادہ کے ذریعہ حاصل ہوئے۔ (عورت معمارِ انسانیت) حکیمانہ تربیت انسان کی زندگی میں ابتدائی تقریباً دس سال کو حیاتیاتی اعتبار سے تیاری کا دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ اس ابتدائی دورِ حیات میں انسان کی شخصیت کا بڑا حصہ عملاً بن کر تیار ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں یہ ابتدائی مدت، تربیت کے نقطۂ نظر سے بہت زیادہ اہم ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے اس تربیتی مقصد کے لیے اپنی زندگی میں دو اشخاص کو خصوصی طور پر چنا۔ ایک، علی ابن ابی طالب اور دوسرے، عائشہ بنت ابی بکر۔ دونوں کو آپ نے یہ موقع دیا کہ وہ کم عمری میں آپ کی صحبت میں رہ کر تربیت پائیں، اور وہ چیز حاصل کریں جس کو قرآن (2:129) میں حکمتِ رسول (prophetic wisdom) کہا گیا ہے۔ حکیمانہ تربیت کا یہ مقصد صرف کم عمری میں حاصل کیا جا سکتا تھا۔ آپ نے علی ابن ابی طالب کو اپنی صحبت میں رکھنے کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ کم عمری میں ان کے کفیل بن گئے۔ عائشہ ایک خاتون تھیں، اس لیے ان کے لیے یہ طریقہ قابلِ عمل نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page