Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

حکیمانہ تربیت

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا۔ چنانچہ آپ نے عائشہ بنت ابی بکر سے کم عمری میں نکاح کر لیا۔ روایات کے مطابق، یہ نکاح اس وقت ہوا جب کہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب کہ ان کی عمر نو سال ہو چکی تھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5188)۔ کچھ لوگوں نے عائشہ کی عمر نکاح کے بارے میں تاویل کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مگر یہ ایک غیر ضروری کوشش ہے۔ یہ زاویہ نظر کے فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ اس واقعہ کو نکاح کے زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تیاری کی مدت (formative period) میں پیغمبرانہ تربیت کا معاملہ ہے۔ نتیجہ اس توجیہ کی تصدیق کرتا ہے۔ چنانچہ یہ بات علما کے درمیان ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے، یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ علی اور عائشہ، دونوں بصیرت اور فقہ کے اعتبار سے تمام صحابہ میں امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔ رسول سے استفادے کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ کے اقوال کو محفوظ کر لیا جائے، اور اس کو لوگوں سے بیان کیا جائے۔ اس معاملہ میں ابو ہریرہ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ رسول اللہ کی باتوں کو سن کر اور آپ کے عمل کو دیکھ کر حقائق کا استنباط کیا جائے۔ یہ دوسرا فائدہ صرف متواتر صحبت کے ذریعے حاصل ہو سکتا تھا۔ اس دوسرے مقصد کے لیے علی ابن ابی طالب اور عائشہ بنت ابی بکر کا کم عمری میں انتخاب کیا گیا۔ مثال کے طور پر علی ابن طالب کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے: قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُ (جامع بیان العلم و فضله، حدیث نمبر 609-608)۔ یہ بات ان الفاظ میں کسی حدیث رسول میں نہیں آتی ہے۔ یہ رسول کی صحبت سے مستنبط کی ہوئی ایک حکمت ہے۔ اس بات کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page