عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتبار سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کو کتنے امتیاز کے ساتھ انجام دیتا ہے: یہی معاملہ عائشہ بنت ابی بکر کا ہے۔ حضرت عائشہ کے استنباطات مشہور ہیں۔ یہ تمام استنباطات اعلیٰ حکمت کا نمونہ ہیں۔ وہ رسول اللہ کی صحبت سے اخذ کی ہوئی حکمت کی باتیں ہیں۔ مثلاً حضرت عائشہ کا یہ حکیمانہ قول: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی رسول اللہﷺ کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان تر کا انتخاب کرتے تھے: رسول اللہ سے سنی ہوئی باتوں کو حدیث کہا جاتا ہے۔ علی اور عائشہ کا امتیاز استنباط کے پہلو سے ہے۔ انھوں نے رسول اللہ کی صحبت میں رہ کر حکمت کی باتیں اخذ کیں ۔ اور ان کو اپنی زبان میں بیان کیا۔ کم عمری میں ان دونوں صاحبان کے لیے صحبت رسول بہت مفید تھی۔ اس صحبت نے ان کے اندر اخذ (grasp) کی طاقت کو بہت بڑھا دیا۔ (الرسالہ، اگست 2016) اصلاح میں تدریج ایک روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے پہلے وہ آیتیں اور سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader