Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی طرف مائل ہوگئے تو اس کے بعد حلال و حرام کے احکامات ہیں۔ اور اگر ایسا ہوتا کہ شروع ہی میں یہ حکم اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم شراب کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح اگر شروع ہی میں یہ حکم اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4993)۔ اس روایت سے ایک عظیم حکمت نبوی معلوم ہوتی ہے۔ یہ وہی عملی حکمت ہے جس کو تدریج (gradualism) کہا جاتا ہے۔ انسان کی اصلاح ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ انسان عام طور پر کچھ خیالات اور عادات سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ وہ اسی کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اس بنا پر وہ کسی نئی چیز کو فوری طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں انسانوں کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کام کو حکمت اور تدریج کے ساتھ کیا جائے۔ رسول اللہ نے عرب میں پہلے لوگوں کی سوچ کو بدلا۔ لوگوں کے اندر قبولیت کا مزاج پیدا کیا۔ یہاں تک کہ جب ان کے اندر اصلاح کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوگئی تو اس کے بعد آپ نے شرعی احکام کا نافذ فرمایا۔ اگر آپ فکری تطہیر اور مزاج سازی کے بغیر شریعت کے قوانین نافذ کرتے تو یہ انسانی فطرت کے خلاف ہوتا، اور وہ انقلابی نتیجہ برآمد نہ ہوتا جو عرب کے سماج میں برآمد ہوا۔ (الرساله، جنوری 2001) رازداری فتح مکہ کے واقعات کے ذیل میں آیا ہے کہ مدینہ میں آپ نے سفر کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ عام مسلمان ضروری تیاری میں مصروف ہوگئے۔ اس زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق اپنی صاحبزادی عائشہ کے گھر میں آئے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page