عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
اہلیہ تھیں۔ وہ اس وقت ضروری تیاری کر رہی تھیں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنی صاحبزادی سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو اس کا حکم دیا ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے دوبارہ پوچھا کہ یہ تیاری کہاں کے سفر کے لیے ہے۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم مجھ کو نہیں معلوم: وَالْلّٰہِ مَا أَدْرِي (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 397)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ تھی کہ آپ نازک معاملات میں ہمیشہ راز داری کا طریقہ اختیار فرماتے تھے۔ یہی آپ نے فتح مکہ کی مہم میں کیا۔ مدینہ سے آپ اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ نکلے مگر آپ نے لوگوں کو یہ نہیں بتایا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے جہاں سے راستہ سیدھا مکہ کی طرف جاتا تھا، اس وقت ہم نے جانا کہ یہ سفر مکہ کے لیے ہے۔ نازک اجتماعی معاملات میں راز داری بے حد اہم ہے اکثر اوقات کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ فریق ثانی کو آپ کے منصوبہ کا پیشگی علم نہ ہو سکے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکمت کو نہایت اہتمام کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار فرمایا۔ (الرسالہ، جنوری 1999) استنباطات عائشہ عائشہ صدیقہ سے حدیث کی مختلف کتابوں میں جو روایتیں منقول ہیں اُن کی کل تعداد 2210 ہے۔ تعدادِ روایت کے اعتبار سے بعض دوسرے صحابی اُن سے آگے ہیں۔ مثلاً ابو ہریرہ کی روایتوں کی تعداد 5364 ہے۔ عبد اللہ بن عمر کی روایتوں کی تعداد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader