Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

استنباطاتِ عائشہ

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

2630 ہے۔ انس بن مالک کی روایتوں کی تعداد 2286 ہے۔ مگر ایک معاملہ میں عائشہ صدیقہ کا درجہ سب سے بڑھا ہوا ہے۔ اور وہ ہے، حدیثوں کی تشریح اور اُن سے مسائل کا استنباط۔ عائشہ صدیقہ کو یہ امتیاز اس لیے حاصل ہوا کہ وہ پیغمبر اسلام سے قریبی صحبت کی بنا پر پیغمبر اسلام کے مزاج کے بارے میں زیادہ گہری واقفیت رکھتی تھیں ۔ یہاں اس سلسلہ میں کچھ مثالیں نقل کی جاتی ہیں : 1۔ صحیح البخاری میں عائشہ صدیقہ کی ایک تفصیلی روایت آئی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے : قرآن میں سب سے پہلے جو سورتیں نازل ہوئیں وہ مفصل کی سورتیں ہیں جن میں جنت اور دوزخ کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو پھر حلال وحرام کے احکام اُترے۔ اگر پہلے ہی یہ اُترتا کہ شراب مت پیو تو لوگ کہتے کہ ہم شراب ہرگز نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر یہ اُترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے ۔ مکہ میں جب میں کھیلتی تھی تو قرآن کی یہ آیت اُتری: اُن کے وعدہ کا وقت قیامت ہے اور قیامت نہایت سخت اور نہایت تلخ چیز ہے: بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ (54:46) ۔ سورۃ البقرۃ اور سورۃ النساء جب اتری تو میں آپ کے پاس تھی (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4993 ) ۔ عائشہ صدیقہ نے اپنی اس روایت میں جو بات کہی وہ انہی لفظوں میں قرآن وحدیث میں موجود نہیں۔ مگر پیغمبر اسلام کی مسلسل محبت کے ذریعہ اُنہیں یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ قرآن کے احکام کے نزول میں تدریج کا اُصول رکھا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن پر مبنی سماج بنانے کے عمل کا آغاز حدود اور قانون کے احکام کے نفاذ سے نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اْس کا صحیح آغاز یہ ہے کہ پہلے انسان کی سوچ بدلی جائے ۔ انسان کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page