Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

استنباطاتِ عائشہ

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

احکام کی قبولیت کا جذبہ پیدا کیا جائے ۔ یعنی فکری انقلاب کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ عملی احکام کو کسی سماج میں نافذ کیا جائے۔ عائشہ صدیقہ کو یہ اہم حقیقت یقینی طور پر پیغمبر اسلام سے طویل مذاکرہ کے ذریعہ معلوم ہوئی۔ 2۔ عائشہ صدیقہ کی ایک روایت اس طرح آئی ہے: جنگِ بعاث کا دن ایک ایسا واقعہ تھا، جس کے نتائج کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہلے سے مقدر فرما دیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ جب مدینہ آئے تو اُس وقت اہل مدینہ کی جمعیت منتشر ہو چکی تھی ۔ اُن کے سردار اس جنگ میں قتل یا زخمی ہو چکے تھے ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس صورتِ حال کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ان کے اسلام میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ بنا دیا تھا: فَقَدُّمَهُ لِرَسُوْلِهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي دُخُوْلِهِمْ فِي الإِسْلَامِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3777)۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی سخت مخالفت کی ۔ جب کہ اُس سے تین سومیل دور واقع مدینہ میں آپ کا پیغام کسی مزاحمت کے بغیر پھیل گیا۔ یہ فرق کیوں تھا۔ اس کا جواب عائشہ صدیقہ کی مذکورہ روایت میں ملتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مکہ اور مدینہ کے اس فرق کا معاملہ قرآن یا حدیث رسول میں مذکور نہیں۔ پھر عائشہ صدیقہ کو یہ اہم حقیقت کیسے معلوم ہوئی ۔ اُس کا ذریعہ صحبت رسول تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگوؤں میں اس سلسلہ میں جو باتیں کہتے تھے، اُس سے عائشہ صدیقہ نے اس حقیقت کو اخذ کیا اور پھر اُس کو ساری امت کو بتایا۔ عائشہ صدیقہ کی اس روایت کے مطابق، اصل بات یہ تھی کہ مکہ کے برعکس، مدینہ میں وہ بڑے قبائلی سردار موجود ہی نہ تھے جو اس قسم کی مزاحمت کا اصل سبب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page