Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

استنباطاتِ عائشہ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے کچھ ہی پہلے وہاں خانہ جنگی ہوئی جس میں مدینہ کے اکثر بڑے سردار قتل ہو گئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی مشن کے خلاف مزاحمت کی تحریکیں ہمیشہ لیڈر لوگ چلاتے ہیں۔ پھر جب مدینہ میں وہاں کے لیڈر لوگ نہ رہے تو مزاحمت کی جڑ اپنے آپ کٹ گئی۔ چنانچہ عوام نے اسلام کو اپنی فطرت کی آواز سمجھ کر اس کو قبول کر لیا۔ 3۔ صحیح مسلم میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانہ میں عائشہ صدیقہ کے شاگرد ابن ابی ملیکہ نے اُن سے پوچھا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کسی کو خلیفہ بناتے تو کس کو بناتے۔ فرمایا ابو بکر کو۔ پوچھا اُن کے بعد، جو اب دیا عمر کو۔ سوال کیا کہ پھر، کہا ابو عبیدہ بن جراح کو۔ اس کے بعد کس کو۔ اس کے جواب میں عائشہ صدیقہ چپ ہوگئیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2385)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ نے پیغمبر اسلام کی محبت سے جو باتیں سیکھی تھیں اُن میں سے ایک اہم بات یہ تھی کہ اجتماعی معاملات میں فرد کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ اجتماعی زندگی کی تعمیر صرف نظام یا سسٹم کے ذریعہ نہیں ہوتی۔ بلکہ اُس کے لیے ہمیشہ ایک فرد درکار ہوتا ہے، ایک ایسا فرد جو خصوصی صلاحیتوں کا حامل ہو۔ عائشہ صدیقہ کے مطابق، اسلام کے دورِ اول کے انقلاب میں بھی صرف تین آدمی ایسے تھے جو کامیابی کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری کو سنبھال سکیں۔ اس سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ اجتماعی اصلاح کے معاملہ میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایک ڈھانچہ کو توڑ کر دوسرا ڈھانچہ بنایا جائے۔ بلکہ اجتماعی اصلاح کی اصل ضرورت یہ ہے کہ اُس کے لیے اہل افراد تیار کیے جائیں۔ یہ سیاسی حکمت (political wisdom) جو عائشہ صدیقہ کے ذریعہ امت کو معلوم ہوئی وہ غالباً کسی اور کے ذریعہ معلوم نہ ہوسکی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page