Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

استنباطاتِ عائشہ

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

4- عائشہ صدیقہ کی ایک روایت یہ ہے کہ بڑا گنہگار وہ شاعر ہے جو تمام قبیلہ کی ہجو کرے۔ یعنی صرف ایک دو شخص کی برائی کے سبب سے پورے قبیلہ کو بُرا کہہ دینا ایک عظیم اخلاقی بُرائی ہے: إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ جُرْمًا إِنْسَانٌ شَاعِرٌ يَهْجُو الْقَبِيلَةَ مِنْ أَسْرِهَا (الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر 874)۔ عائشہ صدیقہ کی اس روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تنقید میں جنرلائزیشن نہایت بُری چیز ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی قوم یا قبیلہ کے ایک فرد کی کوئی بُرائی سامنے آئے تو لوگ اس کو لے کر پوری قوم یا قبیلہ کو بُرا بتانے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ اخلاقی نقطہ نظر سے غیر ذمہ دارانہ اور اسلامی نقطہ نظر سے ناجائز ہے۔ زندگی کا یہ گہرا اصول بھی اتنے واضح انداز میں غالباً صرف عائشہ کے ذریعہ بیان ہوسکا۔ 5۔ ابن ابی السائب تابعی مدینہ کے ایک واعظ تھے۔ وہ مسجّع (rhymed) دعائیں بنا کر پڑھا کرتے اور وہ ہر وقت لوگوں کے سامنے وعظ کے لیے آمادہ رہتے۔ عائشہ صدیقہ نے اُن سے خطاب کر کے کہا کہ تم مجھ سے تین باتوں کا عہد کرو، ورنہ میں بزور تم سے باز پرس کروں گی ۔ اُنہوں نے کہا کہ اے ام المومنین، وہ کیا باتیں ہیں ۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ دعاؤں میں عبارتیں مسجّع (rhymed) نہ کرو کیوں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب ایسا نہیں کرتے تھے۔ ہفتہ میں صرف ایک دن وعظ کہا کرو (فَلَا تَمَلَّ النَّاسَ هَذَا الْكِتَابَ)۔ اگر یہ منظور نہ ہو تو دو دن اور اس سے بھی زیادہ چاہو تو تین دن۔ لوگوں کو خدا کی کتاب سے اُکتا نہ دو۔ ایسا نہ کیا کرو کہ لوگ جہاں بیٹھے ہیں وہاں آ کر بیٹھ جاؤ اور بات کاٹ کر اپنا وعظ شروع کر دو۔ بلکہ جب ان کی خواہش ہو اور وہ درخواست کریں، تب کہو (مسند احمد، حدیث نمبر 25820)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page