Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

استنباطاتِ عائشہ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

عائشہ صدیقہ کی اس روایت سے دین کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ دین کی اصل روح کے مطابق، دعاقلبی جذبات کا مخلصانہ اظہار ہے جب کہ مسجع (rhymed) دعائیں تصنع اور منافقت کا انداز شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وعظ و نصیحت کا ایک کلمہ ہے اور خیر خواہانہ نصیحت میں ہمیشہ مدعو کی رعایت شامل رہتی ہے۔ مومن کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی بات کو غور سے سنے اور جو بات کہے اس میں لوگوں کے مزاج کی رعایت ہو۔ 7۔ ایک شخص نے عائشہ صدیقہ سے سوال کیا۔ اُس نے کہا کہ اے ام المومنین، بعض لوگ ایک رات میں قرآن دو دو، تین تین بار پڑھتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ انہوں نے پڑھا مگر انہوں نے نہیں پڑھا (اُولَئِكَ قَرَءُوا ، وَلَمْ يَقْرَءُوا)۔ رسول اللہ ا تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے۔ لیکن سورۃ البقرہ، آل عمران اور سورۃ النساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ آپ جب کسی بشارت کی آیت پر پہنچتے تو خدا سے دعا مانگتے اور جب کسی وعید کی آیت پر پہنچتے تو پناہ مانگتے (مسند احمد، حدیث نمبر 24609)۔ اس روایت سے دو چیزوں کے بارے میں دین کی روح معلوم ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ قرآن کی تلاوت کیسے کی جائے ۔ اور دوسرے یہ کہ نفل نماز کی اصل صورت کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ یہ دونوں کام عام طور پر اپنے حجرے میں کرتے تھے۔ اس لحاظ سے اس اہم حقیقت کا علم بقیہ دنیا کو صرف آپ کی رفیقۂ حیات کے ذریعہ ہو سکتا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے امت کے لیے یہی کام انجام دیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے سلسلہ میں اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ تدبر ہے، نہ کہ وہ چیز جس کو عام طور پر ختم قرآن کہا جاتا ہے۔ 8۔ کعبہ پر جب نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے اور پرانا غلاف اُتار لیا جاتا ہے تو یہ سوال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page