Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

استنباطاتِ عائشہ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا ہے کہ پرانے غلاف کو کیا کیا جائے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ تعظیم اور ادب کے نقطۂ نظر سے پرانے غلاف کو زمین میں دفن کر دیا جاتا تھا۔ شیبہ بن عثمان نے جو اس زمانہ میں کعبہ کے کلید بردار تھے، عائشہ صدیقہ سے بیان کیا کہ ہم سارے غلاف کو اکٹھا کر کے ایک گہرا کنواں کھود کر اُس میں دفن کر دیتے ہیں۔ تا کہ ناپاکی کی حالت میں لوگ اس کو پہن نہ لیں۔ عائشہ صدیقہ نے شیبہ سے کہا کہ یہ تو اچھی بات نہیں۔ تم برا کرتے ہو۔ جب وہ غلاف کعبہ پر سے اُتر گیا تو وہ عام کپڑا ہے۔ اب اگر کسی نے ناپاکی کی حالت میں اُس کو پہن بھی لیا تو کوئی مضائقہ نہیں (اِنَّ ثِيَابَ الْكَعْبَةِ إِذَا نُزِعَتْ مِنْهَا لَمْ يَضُرَّهَا أَنْ يَلْبَسَهَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ)۔ تم کو چاہیے کہ اس کو بیچ دیا کرو اور اس کے جو دام آئیں وہ غریبوں اور مسافروں کو دے دیا کرو (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 9731)۔ عائشہ صدیقہ نے اپنی بصیرت سے یہ سمجھا کہ یہ تعظیم غیر شرعی ہے جس کا خدا اور اس کے رسول نے حکم نہیں دیا۔ عائشہ صدیقہ کی یہ بات دین کی اصل روح کے عین مطابق ہے۔ مگر یہ ایک ایسی نازک بات ہے کہ جس کو کہنے کی جرأت ایک عام مسلمان نہیں کر سکتا۔ عائشہ صدیقہ کو پیغمبر اسلام کی مسلسل صحبت کے ذریعہ دین کا جو فہم صحیح ملا تھا اُس نے اُن کے اندر یہ ہمت پیدا کی کہ وہ یقین کے ساتھ اس بات کا اعلان کر سکیں۔ اس طرح کی اور بہت سی باتیں عائشہ صدیقہ سے حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ عائشہ صدیقہ کی اس قسم کی روایتیں یہ بتاتی ہیں کہ عائشہ صدیقہ کا ابتدائی عمر میں رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور رفاقت میں آنا دینی نقطۂ نظر سے کتنا اہم تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دین کی بہت سی گہری حکمتیں بعد کے لوگوں کے علم ہی میں نہ آتیں۔ کیوں کہ وہ پیغمبر سے قریبی استفادہ ہی کے ذریعہ معلوم ہو سکتی تھیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page