استنباطاتِ عائشہ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
عائشہ صدیقہ کی ایک اہم روایت ہے۔ صحیح البخاری میں اس روایت کو اُس کے مختلف پہلوئوں کی بنا پر کئی باب کے تحت نقل کیا گیا ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3560)۔ یعنی، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے۔ عائشہ صدیقہ اپنی اس روایت میں پیغمبرِ اسلام کی جنرل پالیسی بیان کرتی ہیں ۔ وہ یہ کہ عملی زندگی میں پیغمبر اسلام کا مستقل طریقہ یہ تھا کہ جب بھی آپ کے سامنے دو میں سے ایک کے انتخاب کا سوال ہوتا تو آپ ہمیشہ یہ کرتے کہ مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دیتے، اور آسان انتخاب (easier option) کو لے لیتے۔ پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کے بارے میں یہ نکتہ اتنا زیادہ گہرا ہے کہ اُس کو ایک شخص لمبی صحبت کے بعد ہی اخذ کرسکتا ہے، بشرطیکہ وہ غیر معمولی ذہانت کا حامل ہو۔ اس معاملہ میں پیغمبرِ اسلام کا کوئی قول انہی الفاظ میں وارد نہیں ہوا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اصولاً وہ آپ کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ وہ سیرتِ رسول کو سمجھنے کے لیے بے حد اہم ہے۔ مثلاً مکہ میں آپ نے توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ اس کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ مقدّس کعبہ میں رکھے ہوئے 360 بتوں کو توڑنے سے اپنے مشن کا آغاز کرتے۔ مگر آپ نے بتوں کے مسئلہ سے اعراض کرتے ہوئے پرامن دعوت سے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ یہ بلاشبہ اختیاراً عسر کو لینے کے مقابلہ میں اختیارِ ایسر کو لینے کا معاملہ تھا۔ اسی طرح مکی دور کے آخر میں آپ کے سامنے دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader