Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

تھا، یا تو مشرکین مکہ سے قتال کریں یا مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں۔ آپ نے دوسرے طریقہ کا انتخاب کیا جو بلا شبہ اختیارِ عسر کے مقابلہ میں اختیارِ ایسر کو لینے کا معاملہ تھا۔ اسی طرح ہجرت کے بعد حدیبیہ کے مقام پر آپ کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب کا سوال تھا۔ یا تو مشرکین کی رکاوٹ کو توڑ کر عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جانے کی کوشش کریں، یا حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ آجائیں۔ پہلا طریقہ جنگ کا طریقہ تھا اور دوسرا طریقہ صلح کا طریقہ۔ آپ نے اس معاملہ میں صلح کے طریقہ کو لے لیا جو اختیارِ عسر کے مقابلہ میں اختیارِ ایسر کو لینے کے ہم معنی تھا۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی حکیمانہ تدبیر کی مثال ہے۔ عائشہ صدیقہ نے پیغمبر اسلام کے ساتھ تبادلۂ خیال اور آپ کی عملی زندگی کے گہرے مطالعہ کے بعد اس راز کو دریافت کیا اور امت کو بتایا۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کا یہ اہم راز غالباً کسی دوسرے مرد یا عورت کے ذریعہ دنیا کو معلوم نہ ہو سکا ۔ (عورت معمارِ انسانیت) استدراکات عائشہ استدراک کا لفظی مطلب ہے، غلطی کی اصلاح کرنا (correction) ۔ حضرت عائشہ کی بہت سی روایتیں ہیں جن کو استدراک کہا جاتا ہے۔ ان روایتوں میں حضرت عائشہ نے کسی راوی کی روایت کی تصحیح کی ہے۔ راوی نے کوئی بات رسول اللہ سے منسوب کی تو عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ نے یہ بات اس طرح نہیں کہی تھی، بلکہ اس طرح کہی تھی۔ حضرت عائشہ کے اس طرح کے اقوال کو استدراکات عائشہ کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page