Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موضوع پر علمائے حدیث نے متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ایک مشہور کتاب یہ ہے: عين الاصابه فى استدراك عائشة على الصحابه للسيوطى (مكتبة العلم القاهرة 1409 ھ)۔ مصنف نے اس کتاب میں حضرت عائشہ کے 52 استدراکات کو جمع کیا ہے۔ حضرت عائشہ کے استدراکات میں سے ایک یہ ہے: بَلَغَ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: إِنَّ مَوْتَ الْفَجْأَةِ سَخْطَةٌ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عُمَرَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : مَوْتُ الْفَجْأَةِ تَخْفِيفٌ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ، وَسَخْطَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 3129)۔ یعنی، عائشہ کو یہ بات پہنچی کہ ابن عمر ایسا کہتے ہیں کہ اچانک کی موت اللہ کی ناراضگی کی علامت ہے۔ تو عائشہ نے کہا کہ اللہ ابن عمر پر رحم فرمائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اچانک کی موت مومن پر آسانی ہے اور غیر مومن پر ناراضگی ہے۔ یہ صرف عائشہ اور ایک راوی کے درمیان مکالمے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس سے ایک اصول اخذ ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان درجہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہے۔ عورت اگر اپنے آپ کو علم و عقل کے اعتبار سے تیار کرے تو وہ معاملات میں مردوں کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ وہ زندگی میں قائدانہ رول ادا کرسکتی ہے۔ ایسی عورت شادی شدہ زندگی میں اپنے رفیق حیات کے لیے ایک سرمایہ (asset) ہے۔ (الرسالہ، دسمبر 2016) روایتیوں کی تصحیح رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ ذہین تھیں۔ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page