روایتوں کی تصحیح
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
کی مرویات کی تعداد 2210 تک شمار کی گئی ہے۔ ان سے تقریباً ایک سو صحابہ و تابعین نے روایت کیا ہے۔ عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، عبداللہ بن عامر ، مسروق بن اجدع ، عکرمہ اور علقمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حضرت عائشہ رینہا ایک اعلیٰ درجہ کی فقیہ خاتون تھیں ۔ جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علّت وحکمت بھی بیان کر دیتیں ۔ (الرسالہ، مارچ 1977) عائشہ صدیقہ کا ایک منفرد کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بہت سی ایسی روایتوں کی تصحیح کی جو پیغمبر اسلام کے قول کی صحیح ترجمانی نہیں کر رہی تھیں۔ پیغمبر اسلام سے جو حدیثیں منقول ہیں وہ زیادہ تر مجلس کی گفتگو سے تعلق رکھتی ہیں۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ کوئی صحابی مجلس کے درمیان میں آیا۔ اُس نے آپ کی گفتگو کا کچھ حصہ سنا اور کچھ حصہ نہیں سنا۔ اسی طرح کسی صحابی نے پیغمبر اسلام کی ایک بات سنی مگر وہ اس سے باخبر نہ تھا کہ آپ نے یہ بات کس بیک گراؤنڈ میں کہی ہے۔ اس طرح کے مختلف اسباب سے بعض صحابہ کی روایتوں میں ابہام واقع ہو گیا۔ اُن کی بیان کردہ روایت سے پیغمبر اسلام کی صحیح ترجمانی نہ ہوسکی۔ یہ کام عائشہ صدیقہ نے انجام دیا۔ عائشہ صدیقہ کو آپ کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے ہر روز آپ کی صحبت ملتی تھی۔ وہ آپ کی رفیقۂ حیات ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں تھیں کہ وہ باتوں کو زیادہ تفصیل سے اور زیادہ گہرائی کے ساتھ جان سکیں۔ چنانچہ اپنی اس امتیازی صفت کی بنا پر انہوں نے یہ اہم کام انجام دیا کہ صحابہ کی جن روایتوں میں پیغمبر اسلام کے ارشاد کی ترجمانی خلاف واقعہ ہوئی تھی اُن روایتوں کو اُنھوں نے اُن کی صحیح صورت میں پیش کیا۔ روایات میں اس قسم کی تصحیح کو محدثین کی اصطلاح میں استدراک کہا جاتا ہے۔ متعدد ائمہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader