روایتوں کی تصحیح
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث نے ان استدراکات کو یکجا کیا ہے۔ اسی قسم کا ایک رسالہ وہ ہے جس کو جلال الدین السیوطی نے تیار کیا۔ اس رسالہ کا نام یہ ہے: عین الاصابة في استدراك عائشة علی الصحابة (قاهره، 1988)۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: ا صحیح البخاری کی ایک روایت کے مطابق، عبداللہ بن عمرؓ نے غسل کے بارے میں روایت کرتے ہوئے کہا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 894)۔ یعنی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص جمعہ میں آئے اس کو چاہیے کہ وہ غسل کرے۔ عبداللہ بن عمرؓ نے مذکورہ حدیث کو سادہ طور پر بیان کیا۔ بظاہر اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ایک مطلق حکم ہے۔ مگر اسی حدیث کو عائشہ صدیقہ نے روایت کیا تو انہوں نے اس کا سبب بھی بیان کر دیا۔ یہ سبب انہوں نے یقینی طور پر پیغمبر اسلام کی صحبت سے معلوم کیا تھا۔ عائشہ صدیقہ حدیث کو اس طرح بیان کرتی ہیں: قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ يَوْمَ الجُمُعَةِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَالعَوَالِي، فَيَأْتُونَ فِي الغُبَارِ يُصِيبُهُمْ الغُبَارُ وَالعَرَقُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُمْ العَرَقُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 902)۔ یعنی، لوگ اپنے اپنے گھروں سے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader