روایتوں کی تصحیح
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
مدینہ کے باہر کی آبادیوں سے جمعہ کے روز آتے اور وہ گرد و غبار اور پسینہ میں ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ اُن میں سے ایک شخص آپ کے پاس آیا، اس وقت آپ میرے پاس تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہتر ہوتا اگر تم اس دن غسل کر لیا کرتے۔ عبد اللہ بن عمر کی روایت میں قول رسول کو مطلق طور پر نقل کیا گیا ہے جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ غسل گویا نماز کا حصہ ہے۔ مگر عائشہ صدیقہ نے اس قول رسول کو اس کے صحیح پس منظر میں بیان کیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غسل کی حیثیت ایک جسمانی ضرورت کی ہے، وہ نماز کا عبادتی جز نہیں 2۔ عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر اور بعض صحابہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ اَهْلِهِ عَلَيْهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1286)۔ یعنی، مردہ پر اُس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ یہ روایت جب عائشہ صدیقہ کے سامنے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن آپ ایک غیر مسلم عورت کے جنازہ پر گزرے، اُس کے رشتہ دار اُس پر رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ رو رہے ہیں جب کہ اس عورت پر عذاب ہو رہا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 932)۔ عائشہ صدیقہ کا کہنا یہ ہے کہ رونا عذاب کا سبب نہیں ہے۔ بلکہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ یعنی نوحہ کرنے والے اس کی موت پر رورہے ہیں جب کہ مرنے والا اپنے گزشتہ اعمال کی سزا میں مبتلا ہے۔ رونا دوسروں کا فعل ہے جس کا عذاب یہ رونے والے خود اٹھائیں گے۔ مردہ اس کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ ہر شخص اپنے فعل کا خود جواب دہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader