Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

روایتوں کی تصحیح

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ قولِ رسول کے بارے میں عائشہ کی یہ وضاحت بتاتی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں پیغمبر اور عائشہ کے درمیان باقاعدہ گفتگو ہوتی تھی۔ اس گفتگو کے دوران عائشہ پر وہ باتیں کھلتی تھیں جس سے عام لوگ بے خبر رہتے تھے۔ 3۔ غزوہ بدر میں جو مشرکین مارے گئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اُن کے مقام فن پر کھڑے ہو کر فرمایا: فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقّاً (44: 7)۔ یعنی، خدا نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اُس کو سچا پایا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، آپ مردوں کو پکارتے ہیں۔ ابن عمر غالباً عمر سے اور انس بن مالک ابوطلحہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا: تم ان سے زیادہ نہیں سنتے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ، وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1370)۔ عائشہ صدیقہ سے جب یہ روایت بیان کی گئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا نہیں کہا بلکہ آپ نے یہ فرمایا: اس وقت وہ جان گئے ہیں کہ میں اُن سے جو کچھ کہتا تھا وہ سچ تھا ۔ إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1371)۔ عائشہ صدیقہ نے جو بات کہی وہ گہرے دینی فہم کی بنا پر تھی۔ یہ غیر معمولی قسم کا گہرا دینی فہم عائشہ کو کہاں سے ملا۔ اس کا جواب یقینی طور پر صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ دینی فہم انہیں پیغمبر اسلام ﷺ سے قریبی استفادہ کے ذریعہ حاصل ہوا۔ 4۔ عائشہ صدیقہ کے پاس قبیلہ بنو عامر کے دو آدمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ ابو ہریرہ رسول اللہ ﷺ کے حوالہ سے یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہے، گھر میں اور عورت میں اور گھوڑے میں۔ عائشہ صدیقہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page