روایتوں کی تصحیح
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پر بہت زیادہ غصہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد پر قرآن کو اتارا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہرگز ایسا نہیں کہا۔ آپ نے جو کہا وہ یہ تھا کہ جاہلیت کے لوگ ان تینوں چیزوں سے بدشگونی لیتے تھے (مسند احمد، حدیث نمبر 26034)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے دراصل یہ فرمایا تھا کہ یہود کہتے ہیں کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہے عورت میں، گھوڑے میں اور گھر میں (مسند ابو داؤد الطیالسی، حدیث نمبر 1641؛ مسند احمد، حدیث نمبر (25168 غالباً راوی نے اپنی سادگی کی بنا پر رسول اللہ ﷺ کی بات کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ آپ نے جو بات جاہلیت کے لوگوں کے بارے میں کہی تھی اُس کو انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا۔ مگر عائشہ صدیقہ اپنی غیر معمولی ذہانت اور مسلسل صحبتِ رسول کی بنا پر دین کے مزاج کو پوری طرح سمجھ چکی تھیں۔ اسی لیے انہیں اصل بات کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی۔ انہوں نے راوی کی بات کو سن کر فوراً اپنے فہم دین کی بنا پر اس حقیقت کو سمجھ لیا اور فوراً اس کی تردید کر کے اصل بات کو بیان کیا۔ عائشہ کی مذکورہ وضاحت بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ اگر اُنہوں نے یہ وضاحت نہ کی ہوتی تو ابوہریرہ کی روایت کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لیے اس معاملہ میں ایک الجھن (confusion) باقی رہتا جس کو کوئی دوسرا شخص کھول نہیں سکتا تھا۔ 5۔ عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو بار اللہ کو دیکھا۔ ایک بار معراج کے موقع پر اور دوسری بار اُس موقع پر جس کا ذکر سورہ النجم میں آیا ہے۔ مسروق تابعی نے اس کے حوالہ سے عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ اے ام المومنین، کیا رسول اللہ ﷺ نے خدا کو دیکھا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ تم ایسی بات بولے جس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader