عمر نکاح کا مسئلہ
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر چہ حدیث یا تاریخ سے ثابت نہیں کہ عائشہ صدیقہ کا کیس قبل از بلوغگی کا کیس تھا۔ اس معاملہ میں یہ تمام تر ایک مفروضہ ہے۔ تاہم اصل مسئلہ کی نسبت سے یہ جواب ایک غیر متعلق جواب ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ صحیح روایات میں عددی تعیین کے ساتھ یہ بات آئی ہے کہ چھ سال میں نکاح اور نو سال میں رخصتی۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ کی عمر اس وقت پچاس سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اصل سوال عمر میں اسی ثابت شدہ فرق کے بارے میں ہے، نہ کہ بلوغگی کے بارے میں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ : عربوں میں شادی سے پہلے، رشتہ کے متعلق بات طے کر لینے کا رواج تھا۔ یہ وہی چیز تھی جسے ہمارے ہاں نسبت ٹھہرانا یا منگنی کرنا کہتے ہیں۔ قرآن میں صرف نکاح کا ذکر ہے، نسبت اور منگنی کا نہیں۔ لہذا روایات میں جو کہا گیا ہے کہ عائشہ کا نکاح چھ برس کی عمر میں ہوا اور رخصتی نو برس کی عمر میں، تو وہاں نکاح سے مقصود، عربی معاشرہ کی رسم کے مطابق، رشتہ کی بات چیت کا طے پانا (یا منگنی کرنا) ہے اور رخصتی سے مراد شادی ہے (غلام احمد پرویز ، طاہرہ کے نام خطوط، عائشہ کی عمر، صفحہ 2-1)۔ یہ تو جبیہ بھی درست نہیں۔ احادیث میں جب نکاح کا لفظ آیا ہے تو اس کو ہمیں نکاح کے معروف معنی ہی میں لینا ہوگا۔ نکاح کے لفظ کو کسی اور معنی میں لینے کے لیے خود متن حدیث میں اس کا ثبوت ملنا چاہیے جو کہ موجود نہیں۔ مزید یہ کہ اس توجیہہ سے اصل اعتراض ختم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ نکاح کی عمر خواہ چھ سال مانی جائے یا نو سال، دونوں حالتوں میں وہ کم عمری ہی کی شادی ہے۔ پھر اس توجیہہ کا کیا فائدہ۔ اسی طرح کچھ لوگ ایک اور نکتہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : عائشہ صدیقہ نے صحابہ کی مرویات پر تنقید کی اور کہا : " میں تو نہیں کہتی کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں لیکن کان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader