عمر نکاح کا مسئلہ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
سننے میں غلطی کر جاتے ہیں۔ بخاری ومسلم میں اس قسم کی متعدد تنقیدات موجود ہیں۔ اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ بعض اوقات راوی انتہائی معتبر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس کی بیان کردہ روایت غلط ہو جاتی ہے۔ کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ راوی نے ادھوری بات سنی ہوتی ہے۔ کبھی راوی مفہوم غلط سمجھ بیٹھتا ہے، کبھی اس سے بھول واقع ہوتی ہے۔ ہم بھی بقول ام المومنین یہ کہتے ہیں کہ راوی سے سننے میں غلطی ہوئی۔ جملہ بولا گیا تھا تسع عشر (انیس) راوی نے صرف تسع (نو) کا لفظ سنا اور اس طرح اس داستان نے جنم لیا کہ بعض اوقات کان سننے میں غلطی کرتے ہیں ۔ (حبیب الرحمن صدیقی کا ندھلوی، عمر عائشہ، مطبوعہ کراچی، اکتوبر 1994ء صفحہ 9-8) یہ قیاس بھی درست نہیں۔ عائشہ صدیقہ کا مذکورہ اصول وہاں قابلِ انطباق ہوگا جہاں روایت کرنے والا اور روایت کی تردید کرنے والا دونوں یکساں طور پر سامع کی حیثیت رکھتے ہوں۔ ایک سامع دوسرے سامع کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ اس نے سننے میں غلطی کی، میرے سننے کے مطابق، اصل بات یہ تھی۔ مگر ایک غیر سامع جو بات کو سننے میں شریک نہ ہو وہ مذکورہ قیاس کی بنیاد پر تردید کا حق نہیں رکھتا۔ اس قسم کا استدلال سراسر غیر معقول ہے۔ اگر اس توسیعی قیاس کو ایک درست اصول مان لیا جائے تو کوئی شخص ایسے قیاسات پیش کر سکتا ہے جو پورے دین کا حلیہ بگاڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں بحث کا نقطہ آغاز ہی نہیں ہے کہ ایک کم عمر لڑکی کی شادی زیادہ عمر کے انسان سے کیوں ہوئی۔ بلکہ اس معاملہ میں بحث کا صحیح نقطۂ آغاز یہ ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ عائشہ صدیقہ تاریخ کی ایک استثنائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader