Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عمر نکاح کا مسئلہ

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

شخصیت کیوں بن گئیں ۔ اس معاملہ میں پہلے واقعہ کو دوسرے واقعہ کے تابع کر کے دیکھا جائے گا ، نہ کہ اس کے برعکس ۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ پوری مسلم تاریخ میں عائشہ صدیقہ اپنے رول کے اعتبار سے ایک منفرد اور ممتاز شخصیت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دینِ اسلام کی روح کو اُنھوں نے جتنی گہرائی کے ساتھ سمجھا اتنی گہرائی کے ساتھ کسی بھی دوسرے مرد یا عورت نے نہیں سمجھا۔ دین کے نازک پہلوؤں کی تشریح میں وہ جس یقین کے ساتھ بولتی ہیں، اس یقین کے ساتھ کوئی بھی دوسرا بول نہ سکا۔ انھوں نے دین کی حکمتوں کی جس طرح وضاحت کی ہے اُس طرح وضاحت کرنے والا کوئی بھی دوسرا شخص نظر نہیں آتا، نہ دورِ صحابہ میں اور نہ دورِ صحابہ کے بعد۔ اسی سوال کے جواب میں اصل مسئلہ کا جواب چھپا ہوا ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین میں سب سے بڑی چیز معرفت ہے۔ یہ معرفت پیغمبر کو کامل درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ پیغمبر کو یہ معرفت جبریل کے واسطہ سے براہ راست خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے بعد یہ معرفتِ کامل کس طرح کسی کو ملے۔ اسی معرفتِ کامل کے حصول کے لیے عائشہ صدیقہ کو چُنا گیا۔ عملی طور پر اس کی صرف ایک صورت تھی، اور وہ یہ کہ عائشہ کو ابتدائی عمر ہی میں پیغمبر کی صحبت کا موقع دے دیا جائے۔ اس معرفتِ کامل کے لیے صحبتِ کامل درکار تھی۔ اور کسی انسان کے ساتھ صحبتِ کامل کا موقع صرف اس کی بیوی کو مل سکتا ہے، کسی اور کو نہیں۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں بے متجسس (inquisitive) ہوتا ہے۔ وہ اپنے باہر کی باتوں کو جاننے کے لیے بے حد شائق (eager to learn) ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں بہت تیز ذہن (sharp

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page