Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عمر نکاح کا مسئلہ

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

mind) ہوتا ہے۔ وہ نئی نئی چیزوں کو فی الفور پکڑتا ہے۔ مطالعہ سے بھی ثابت ہوا ہے کہ ابتدائی عمر میں ہر مرد اور ہر عورت کا حافظہ بہت قوی ہوتا ہے۔ ابتدائی عمر میں جو باتیں انسان کے علم میں آجائیں وہ پھر کبھی اس کو نہیں بھولتیں۔ ابتدائی عمر سے بچوں کی اسکولنگ شروع کرنے کا نظریہ اسی خاص اصول پر قائم ہے۔ عائشہ صدیقہ نہایت ذہین خاتون تھیں۔ اُن کو بے حد اخاذ طبیعت ملی تھی۔ اس لیے خدا کی منشا ہوئی کہ ان کو کم عمری میں پیغمبر کی مستقل صحبت میں دے دیا جائے۔ اور اسی مستقل صحبت کی عملی صورت صرف یہ تھی کہ وہ آپ کی زوجہ کی حیثیت سے آپ کی شریک زندگی بن جائیں۔ اسی خاص منصوبے کے تحت عائشہ صدیقہ کو کم عمری میں پیغمبر اسلام ﷺ کی زوجیت میں دے دیا گیا۔ یہ نکاح بظاہر ایک غیر روایتی نکاح تھا۔ وہ مروجہ طریقہ کے خلاف تھا۔ اس بنا پر عین ممکن تھا کہ پیغمبرِ اسلام اس کو قبول نہ کرتے۔ حتیٰ کہ یہ امکان تھا کہ وہ اس رشتہ کو قابلِ غور بھی نہ سمجھیں۔ غالباً اسی نزاکت کی بنا پر یہ ہوا کہ خدا کا فرشتہ آپ کے پاس آیا اور اس غیر معمولی رشتہ کے بارے میں اس نے آپ کو پیشگی خبر دی تا کہ آپ کو اس معاملہ میں ترّدُد نہ رہے۔ یہ تقریباً ویسا ہی ایک معاملہ تھا جو اس سے پہلے مریم کے ساتھ پیش آ چکا تھا۔ مریم کو اس پر سخت ترّدُد ہو سکتا تھا کہ ان کے یہاں بغیر باپ کے ایک بچہ پیدا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس پیشگی طور پر ایک فرشتہ بھیجا۔ اس نے انسان کی صورت اختیار کر کے مریم کو اس معاملہ کی خبر دی۔ اس کا ذکر قرآن میں واضح الفاظ میں آیا ہے (مریم، 19: 17)۔ اس رشتہ کے بارے میں فرشتہ کا پیشگی خبر دینا صحیح روایات سے ثابت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page