Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عمر نکاح کا مسئلہ

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

روایات میں آیا ہے کہ عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ مجھ کو خواب میں تمہیں دکھایا گیا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں تم کو لے کر آتا ہے۔ فرشتہ نے کہا کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں نے تمھارے چہرے سے کپڑا اٹھایا۔ پھر دیکھا کہ تم ہو۔ میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو یہ پورا ہو کر رہے گا: قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُكَ فِي الْمَنَامِ يَجِيءُ بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرْقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِي: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَكَشَفْتُ عَنْ وَجْهِكِ الثَّوْبَ فَإِذَا أَنْتِ هِي، فَقُلْتُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 5125 )۔ عائشہ صدیقہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سال تک رہیں۔ چوں کہ اُن کی عمر آپ کے مقابلہ میں بہت کم تھی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ تقریباً پچاس سال تک زندہ رہیں۔ آپ کی وفات کے بعد وہ تقریباً نصف صدی تک علم نبوت کی اشاعت کا ذریعہ بنی رہیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عائشہ صدیقہ نے دین کی ایسی گہری حکمتیں بتائیں جو کسی دوسرے صحابی کے ذریعہ امت کو نہیں مل سکیں۔ مزید یہ کہ پیغمبر کی مسلسل صحبت سے ان کو اپنے تصورات دین کی صداقت پر غیر معمولی یقین حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نازک دینی مسائل میں جس قطعیت کے ساتھ بولتی رہیں اس طرح بولنے کی جرات کوئی دوسرا نہ پہلے کر سکا اور نہ اب کر سکتا ہے۔ مثلاً ایسا ہوتا ہے کہ لوگ عقیدت مندی کے تحت ایک رائے بنا لیتے ہیں جو حقیقت واقعہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ پھر جب ایسی باتیں پھیل جائیں تو عام آدمی کو اس کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ اس کی تردید کرے ۔ ایسے موقع پر غیر معمولی بصیرت درکار ہوتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page