عمر نکاح کا مسئلہ
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ غیر معمولی بصیرت کا حامل انسان ہی ایسے موقع پر کوئی قطعی بات کہنے کی جرات کر سکتا ہے۔ عائشہ صدیقہ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل صحبت سے یہی بصیرت ملی تھی۔ جس کی بنا پر وہ کامل یقین کے ساتھ کام کر سکتیں تھیں۔ مثلاً وفات رسول کے بعد دور تابعین میں یہ کہا جانے لگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ تو انہوں نے اسے رد کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص یہ کہے وہ غلط کہتا ہے (صحیح بخاری، حدیث 4855)۔ اسی طرح وفات رسول کے بعد جو زمانہ آیا اس زمانہ میں ختم قرآن کا طریقہ رایج ہوگیا۔ لوگ قرآن میں تدبّر کے بجائے اس کو اہمیت دینے لگے کہ لفظی تلاوت کے ذریعہ بار بار قرآن کو ختم کیا جاتا ہے۔ اس ختم پر بڑے بڑے ثواب بتائے جانے لگے۔ یہ بات عائشہ صدیقہ کو معلوم ہوئی کہ فلاں لوگ ایک دن کے اندر اتنی بار قرآن ختم کر لیتے ہیں ، تو انھوں نے اس طریقے کو ناپسند کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ ان لوگوں نے ظاہری الفاظ تو پڑھے، مگر حقیقت میں قرآن کو نہیں پڑھا (مسند احمد، حدیث نمبر 24609)۔ زوجہ رسول ہونے کی وجہ سے لوگ اس طرح کی نازک چیزوں میں عائشہ صدیقہ کی بات پر یقین کر سکتے ہیں۔ کوئی دوسرا شخص ایسا بیان دے تو لوگوں کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک روایت ہے جس میں یوسف بن ماہک کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ کے پاس تھا۔ اتنے میں ان کے پاس ایک عراقی شخص آیا۔ اس نے کہا کہ کون سا کفن بہتر ہے۔ عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ تم پر افسوس ہے، اس سے تمہیں کیا فرق پڑتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader