عمر نکاح کا مسئلہ
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ پھر اس نے کہا کہ اے ام المومنین، مجھ کو اپنا مصحف (قرآن) دکھائیے۔ انھوں نے کہا کہ کس لیے۔ اس نے کہا تا کہ میں اس کے مطابق ایک قرآن تیار کروں، کیوں کہ وہ مختلف ترتیب سے پڑھا جا رہا ہے۔ عائشہ نے کہا کہ تمہارا اس میں کیا نقصان ہے، جس طرح تم پہلے پڑھ رہے تھے، وہی پڑھو: وَأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ، قَالَ:إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِذْ جَاءَهَا عِرَاقِيٌّ، فَقَالَ: أَيُّ الكَفَنِ خَيْرٌ؟ قَالَتْ:وَيْحَكَ، وَمَا يَضُرُّكَ؟ قَالَ:يَا أُمَّ المُؤْمِنِينَ، أَرِينِي مُصْحَفَكِ؛ قَالَتْ: لِمَ؟ قَالَ:لَعَلِّي أُؤَلِّفُ القُرْآنَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُقْرَأُ غَيْرَ مُؤَلَّفٍ، قَالَتْ: وَمَا يَضُرُّكَ أَيُّهُ قَرَأْتَ قَبْلُ؟ (صحیح البخاري، حدیث نمبر 4993)۔ عائشہ صدیقہ نے اس گفتگو میں جس یقین اور وضاحت کے ساتھ روحِ اسلام کی نمائندگی کی ہے وہ بے حد اہم ہے۔ اس یقین اور وضاحت کے ساتھ بولنا ان کے لیے صرف اس بنا پر ممکن ہو سکا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قریبی صحبت سے اسلام کی روح کو بھر پور طور پر سمجھ چکی تھیں۔ وہ کسی ادنیٰ شبہ کے بغیر جانتی تھیں کہ اس معاملہ میں اسلام کا تقاضا کیا ہے۔ عائشہ صدیقہ کی فہم و بصیرت سے متعلق اس طرح کی کچھ اور مثالیں اس کتاب کے دوسرے ابواب میں ملیں گی۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عائشہ کی نکاح کے بارے میں عمر کا مسئلہ صرف ایک اضافی مسئلہ ہے۔ اس معاملہ میں اصل فیصلہ کن بات یہ ہے کہ تعلیم و تربیت کی جس مصلحت کے تحت یہ نکاح ہوا اس کا کوئی بھی بدل سرے سے موجود نہ تھا۔ (عورت معمارِ انسانیت)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader