حضرت عائشہ کا نکاح
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عائشہ کا نکاح پیغمبر اسلام ﷺ کا پہلا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا۔ خدیجہ مکہ کی ایک با اثر خاتون تھیں ۔ اس بنا پر اس نکاح سے پیغمبر اسلام کو مکہ میں ایک مضبوط سماجی بنیاد ( social base) حاصل ہو گئی۔ مکہ میں یہ سماجی بنیاد آپ کو تقریباً 25 سال حاصل رہی۔ آپ ایک صاحب مشن تھے ، اور اپنے مشن کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحب مشن کو مضبوط سماجی بنیاد حاصل ہو ۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد پیغمبر اسلام کا دوسرا نکاح حضرت عائشہ سے ہوا۔ یہ نکاح مکی دور کے آخری زمانے میں ہوا ، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی ۔ اس وقت عائشہ کی عمر نو سال تھی ، اور پیغمبر اسلام کی عمر 53 سال ۔ عمر کے اس فرق کو لے کر لوگوں کے درمیان بہت بحثیں جاری ہیں۔ لوگ طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں ، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف نکاح کا معاملہ نہیں تھا ، بلکہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد بطور واقعہ یہ ایک نئی سوشل بنیاد حاصل کرنے کا معاملہ تھا۔ حضرت عائشہ سے نکاح کے بعد ، پیغمبر اسلام کو ان کے باپ کی صورت میں ایک نئی مضبوط تر بنیاد حاصل ہوگئی۔ جیسا کہ تاریخی طور پر معلوم ہے، حضرت ابوبکر صدیق آپ کی زندگی میں بھی آپ کے مضبوط ساتھی بنے رہے ، اور آپ کی وفات کے بعد بھی انھوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام کے استحکام (stability) کے لیے نہایت اہم رول ادا کیا۔ فطرت کے نظام کے تحت ہر انسان کو کامیاب زندگی کے لیے سماجی بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق یہ سماجی بنیاد دو طریقوں سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک خونی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader