حضرت عائشہ کا نکاح
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
رشتہ اور دوسرا نکاح کا رشتہ ۔ فطرت کے نظام کے تحت یہی دو چیزیں مضبوط سماجی بنیاد کا ذریعہ ہیں۔ ہر انسان انھیں رشتوں کی مدد سے سماج میں مضبوط بنیاد حاصل کرتا ہے۔ اس سماجی بنیاد کی ضرورت ہر انسان کو ہوتی ہے، حتیٰ کہ پیغمبر کو بھی ۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور فطرت کے نظام میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا (25:54)۔ یعنی، اور وہی ہے، جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا۔ پھر اس کو خاندان والا اور سہر والا بنایا۔ اور تمہار ا رب بڑی قدرت والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں خالق نے انسان کے اوپر اپنی ایک نعمت کو بتایا ہے ۔ انسان کے درمیان دو طریقوں سے تعلقات قائم ہوتے ہیں ، ایک خونی رشتہ (blood relationship) اور دوسرا صہر یعنی نکاح کا رشتہ (marriage (relationship ۔ انھیں فطری بنیادوں پر انسانی سماج (human society) قائم ہے۔ اگر یہ دو فطری عوامل نہ ہوں تو انسان کی زندگی حیوان کی مانند جنگل کی زندگی بن جائے۔ یہ فطری تعلقات دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے سماجی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس پہلو کی طرف اشارہ قرآن کی ایک آیت میں رھط (family) کے لفظ سے کیا گیا ہے۔ قرآن کی وہ آیت یہ ہے: قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مَّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ (11:91)۔ یعنی، انھوں نے کہا کہ اے شعیب، جو تم کہتے ہو، اس کا بہت سا حصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور ہے۔ اور اگر تمھارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے۔ اور ہم تمھیں صاحب حیثیت نہیں سمجھتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader