نکاح کی حکمت
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
سال کی عمر تک ہر مرد اور عورت کا ذہن بڑی حد تک بن جاتا ہے۔ اس کی کنڈیشنگ اتنی زیادہ ہوچکی ہوتی ہے کہ بعد کے مرحلہ میں اس کو توڑنا بے حد مشکل ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کے والد ابو بکر صدیق نے اس راز کو سمجھا۔ انہوں نے سوچے سمجھے نقشہ کے مطابق ، اپنی ذہین صاحبزادی کا نکاح کم عمری میں پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ کردیا۔ یہ کام خلیفۂ اول ابو بکر صدیق کی کامل رضامندی کے تحت پیش آیا۔ اس میں بیک وقت گہرا اخلاص بھی شامل تھا اور اسی کے ساتھ اعلیٰ ہوش مندی بھی۔ اس نکاح یا دوسرے لفظوں میں تعلیمی منصوبہ بندی کا وہ نتیجہ سامنے آیا جو پوری انسانی تاریخ میں غالباً واحد مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے نتیجہ میں عائشہ صدیقہ جیسی ایک قابل شخصیت تیار ہوئی جس کو اپنی عمر کے ریسپیٹیو (receptive) مرحلہ میں پیغمبر کامل کی صحبت میں اپنے آپ کو تیار کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح وہ علمِ نبوت کی مکمل وارث بن گئیں اور پھر پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات کے بعد تقریباً پچاس سال تک لوگوں کے درمیان علم نبوت کی اشاعت کرتی رہیں۔ وہ گویا پرنٹنگ پریس اور ٹیپ ریکارڈر کے دور سے پہلے پیغمبر اسلام ﷺ کی ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر بن گئیں۔ نبوت کی علمی فیض رسانی کا یہ سلسلہ عائشہ صدیقہ کے ذریعہ پیغمبر اسلام ﷺ کی وفات کے بعد بھی لمبی مدت تک جاری رہا۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوا کہ اُن کا نکاح کم عمری میں پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ ہوگیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا کہ جو عمر پیغمبر اسلام ﷺ کی تھی تقریباً وہی عمر عائشہ صدیقہ کی بھی ہوتی تو دونوں کی وفات کسی قدر فرق کے ساتھ ایک ہی وقت میں ہوجاتی۔ جب پیغمبر اسلام ﷺ کی زبان بند ہوتی تو عائشہ صدیقہ کی زبان بھی ساتھ ہی بند ہوجاتی اور علم نبوت کی فیض رسانی کا سلسلہ بھی اچانک ٹوٹ جاتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader