Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

نکاح کی حکمت

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ پیغمبر سے اکتساب علم کا یہ معاملہ کسی مرد کے ساتھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک خاتون درکار تھیں جو زوجہ کی حیثیت سے مستقل طور پر آپ کے ساتھ رہیں۔ مسلسل صحبت کا تعلق صرف اپنی زوجہ کے ساتھ ہو سکتا تھا، نہ کہ کسی مرد کے ساتھ۔ ان مصلحتوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو عائشہ صدیقہ کا مذکورہ نکاح ایک ایسا دور رس منصوبہ تھا، جس کا فائدہ قیامت تک کے لیے پوری انسانیت کو حاصل ہوا۔ اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے اور اس پر غیر جانبدارانہ انداز سے رائے قائم کی جائے تو یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جو ہوا وہی ہو سکتا تھا۔ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے کوئی دوسرا متبادل سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ دین اسلام کا اصل ماخذ قرآن و حدیث ہے۔ قرآن و حدیث کو اسلام کا متن (literal statement) کہہ سکتے ہیں۔ یہ متن گویا دین اسلام کا لفظی بیان ہے۔ جو آدمی یہ جاننا چاہے کہ اسلام کیا ہے وہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے اس کو معلوم کر سکتا ہے۔ تاہم ایک اور چیز ہے جس کی دین میں بے حد اہمیت ہے اور وہ صحبت ہے۔ صحبت کا مطلب مجلس میں خاموش بیٹھنا نہیں ہے، بلکہ اس میں فکری تبادلہ (intellectual exchange) لازمی طور پر شامل ہے۔ حقیقی معنوں میں صحبت یافتہ وہ ہے جو مجلس میں اس طرح شرکت کرے کہ وہ صاحب مجلس سے باقاعدہ استفادہ کر رہا ہو۔ وہ سوال وجواب کی صورت میں اپنے علم کو بڑھا رہا ہو۔ وہ غیر واضح امور کو مزید گفتگو کے ذریعہ واضح بنا رہا ہو اور اسی کے ساتھ وہ صاحب مجلس کے تجربہ، اس کی روحانیت، اور اس کی بڑھی ہوئی معرفت خداوندی سے شخصی فیض حاصل کر رہا ہو۔ صحابہ کرام اسی صحبت رسول کی عملی مثالیں ہیں۔ مگر عائشہ کی صورت میں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page