Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

چیزیں ان سے نقل کیں۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ احکام شریعت کا چوتھائی حصہ ان سے نقل کیا گیا ہے۔ ان کی وفات امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں 58 ھ میں ہوئی (سیر اعلام النبلاء للذهبی، جلد 2، صفحه (192) ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ منقول نہیں ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو نہایت غور سے سنا۔ آپ کے ہر عمل کو نہایت توجہ سے دیکھا اور پھر اپنی خداداد ذہانت سے اس کی حکمتیں معلوم کیں۔ ان کا کلام اسلامی حکمت اور معرفت کا خزانہ ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان کا انتخاب فرماتے تھے۔ ان کے اس ایک قول میں معانی کا خزانہ چھپا ہوا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ذہانت کو خالص اسلام کے لیے استعمال کیا۔ اسی کے ساتھ انھوں نے زہد کو اپنا شعار بنایا۔ بعد کے زمانہ میں آپ کے پاس کثرت سے مال آتا تھا۔ مگر آپ سارا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیتی تھیں اور خود نہایت سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ ایک بار حضرت عبد اللہ بن الزبیر نے ان کے پاس ایک لاکھ 80 ہزار درہم بھیجے۔ آپ نے سارا درہم شام تک خیرات کر دیا۔ جب کہ اس دن آپ روزہ سے تھیں اور گھر میں روٹی اور زیتون کے تیل کے سوا کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ خادمہ نے کہا کہ آپ کچھ درہم بچا کر گوشت منگالیتیں تو اچھا ہوتا۔ فرمایا کہ تم نے پہلے یاد دلایا ہوتا تو منگالیتی (الزہد لهناد بن السری، اثر نمبر (619) ۔ یہ زہد ہی حکمت کا دروازہ ہے۔ جو یہ چاہتا ہو کہ خدائی معرفت اور اسلامی حکمت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page