Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

دین کے نام پر بے دینی

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

رہے تھے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اشاعت باطل تھی۔ چنانچہ وہ کیفیت ہوگئی جس کو قرآن (24:15) میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: جب کہ تم اس جھوٹ کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے (ترجمہ مولانا اشرف علی تھانوی)۔ یہ فتنہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ سورۃ النور اتری اور براہ راست آسمانی وحی کے ذریعہ اس کی تردید کردی گئی۔ اس سلسلہ میں سورہ النور میں مسلمانوں کو کچھ ہدایات دی گئیں تا کہ وہ آئندہ اس قسم کی مجرمانہ غلطی کا اعادہ نہ کریں۔ ان میں سے ایک خاص ہدایت یہ تھی۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت خیر کا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان ہے (النور، 24:12)۔ اس کی تفسیر میں ابن کثیر نے لکھا ہے کہ یعنی اس بات کو وہ خود اپنے اوپر قیاس کرتے۔ پس اگر وہ خود ان کے لیے مناسب نہ تھا تو ام المومنین زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس سے بری ہوں (تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 273)۔ جب کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی بدگمانی پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میں یہ سوچ کر اس کو رد کر دینا چاہیے کہ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں اور جب اس کا ضمیر یہ کہے کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا تو اسی پر قیاس کر کے سمجھ لینا چاہیے کہ دوسرے مسلمان نے بھی یقینا ایسا نہیں کیا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون واقعی صاحب ایمان ہے اور کون ایمان کا صرف دعویدار ہے۔ کسی کے دین پر قائم ہونے کا ثبوت یہ نہیں کہ وہ انقلاب خیر کا نعرہ لگاتا ہو۔ اس کا اصل ثبوت یہ ہے کہ وہ خود عملا ظن خیر کے مذکورہ قرآنی اصول پر قائم ہو۔ انقلاب خیر کا نعرہ لگانا صرف دین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page