دین کے نام پر بے دینی
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
کے نام پر لیڈری ہے اور ظن خیر کے اصول پر خود قائم ہونا حقیقی معنوں میں دین خداوندی کی پیروی حضرت عائشہ صدیقہ کا یہ قصہ تذکیر القرآن یا تفسیر کی دوسری کتابوں میں سورۃ النور کی تفسیر کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں اس کی تفصیلات نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ معروف طور پر مدینہ کی ایک با عزت خاتون تھیں ۔ ان کی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزری تھی۔ مدینہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے ایک واقعہ کو لے کر اس کو شوشہ بنایا اور اسے آپ کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا۔ مگر انہیں لوگوں نے کبھی یہ نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت عائشہ کی اعلیٰ وینی خدمات کا چرچا کریں۔ ان کی مجلسیں حضرت عائشہ کے تذکرہ سے اس طرح خالی تھیں جیسے کہ مدینہ میں نہ کوئی عائشہ ہیں اور نہ ان کی کوئی دینی خدمات۔ مگر جیسے ہی انہیں حضرت عائشہ کے بارے میں ایک ایسی بات ملی ، جس کو خود ساختہ مفہوم دے کر وہ اس کو آپ کے خلاف استعمال کر سکیں ، تو بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان کا پورا گروہ متحرک ہو گیا۔ اس نے اپنے تمام ذرائع کو استعمال کر کے اس جھوٹے قصہ کو پھیلایا۔ انہوں نے ایک ایک شخص کے کان میں اس کو ڈال کر اسے حضرت عائشہ سے بدگمان کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ پورے مدینہ کو ان کے خلاف بدگمانیوں اور افواہوں سے بھر دیا۔ اپنے خیال کے مطابق ، یہ لوگ ایک ، " واقعہ " کی اشاعت کر رہے تھے ، مگر اللہ کے نزدیک وہ بدترین قسم کے مجرم تھے۔ ایسا کر کے وہ خدا کے دین کی کوئی خدمت نہیں کر رہے تھے بلکہ صرف شیطان کے مقصد کو پورا کر رہے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader