عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص جو اللہ کی پکڑ سے ڈرتا ہو، اس پر فرض کے درجہ میں لازم ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرے نہ کہ شوشوں کی بنیاد پر۔ اگر کبھی کوئی غلط فہمی ہو جائے تو متعلقہ شخص سے مل کر اپنی غلط فہمی کو دور کیا جائے، نہ کہ اس کو حقیقت سمجھ کر اس کا عمومی چرچا کیا جانے لگے۔ اسی قسم کے کردار کا نام منافقانہ کردار ہے اور قرآن کے مطابق، منافقانہ کردار والے لوگوں کے لیے کافروں سے بھی زیادہ سخت سزا مقرر ہے، الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور کھلے طور پر اپنی مجرمانہ روش کا اقرار کر کے متعلقہ اشخاص سے معافی مانگیں ۔ (الرسالہ، فروری 1999) ایک مثالی نمونہ اسلامی تعلیمات کے لیے ایک مثالی نمونہ عائشہ بنت ابی بکر الصدیق کا ہے۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ تھیں۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد تقریباً پچاس سال تک زندہ رہیں، اور پیغمبر اسلام کے بعد لمبی مدت تک لوگوں کو اسلام کا حکیمانہ پیغام پہنچاتی رہیں ۔ وہ ریکارڈنگ کے زمانے سے پہلے پیغمبر اسلام کی تعلیمات کا زندہ ریکارڈ بنی رہیں۔ اُن کی اسلامی معرفت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ اصحابِ رسول اُن سے علم دین سیکھنے کے لیے دور دور سے آتے تھے۔ حضرت عائشہ کی زندگی تمام خواتین کے لیے ایک اعلیٰ نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت عائشہ نے انتہائی سادہ زندگی اختیار کی۔ معاشی اور مادی معاملات میں انھوں نے آخری حد تک قناعت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح ان کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader