Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کا چشمہ ان کے ذہن میں جاری ہو اس کو اس دنیا میں مادی چیزوں سے بے رغبت ہو کر رہنا ہوگا۔ (الرسالہ، مارچ 1996) حضرت عائشہ کا مقام عائشہ بنت ابی بکر کو اسلام کی تاریخ میں خاتونِ اول (first lady) کا مقام حاصل ہے۔ عائشہ صدیقہ قرآن کی ایک بڑی عالِم تھیں ۔ علمِ حدیث میں ان کو مجتہدانہ حیثیت حاصل تھی۔ عائشہ صدیقہ کے والد ابو بکر بن قحافہ تھے اور اُن کی والدہ کا نام ام رومان بنت عامر تھا۔ وہ مکہ میں نبوت کے پانچویں سال پیدا ہوئیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے اس سلسلہ میں مختلف روایتوں کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ اُن کی تاریخ پیدائش غالباً شوال 9 قبل ہجرت مطابق جولائی 614ء ہے ( سیرت عائشہ، سید سلیمان ندوی، مطبوعہ شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، صفحہ 19)۔ عائشہ صدیقہ کا حافظہ بہت غیر معمولی تھا۔ اُن کو اپنے بچپن کے زمانہ تک کی اکثر باتیں یاد تھیں۔ عرب شعرا کا کلام اُن کو اتنا زیادہ یاد تھا کہ اکثر معاملات میں وہ کوئی نہ کوئی شعر پڑھ دیا کرتی تھیں۔ اپنے اہل خاندان کے ساتھ نبوت کے تیرھویں سال پیغمبر اسلام نے ابو بکر صدیق کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ عائشہ صدیقہ بھی اپنے اہل خاندان کے ساتھ مکہ سے مدینہ آگئیں۔ قوت حافظہ کے ساتھ وہ غیر معمولی طور پر اناذ تھیں ۔ ہجرت کے وقت اُن کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ لیکن اس کم عمری میں اُن کی قوت حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرت نبوی کے تمام واقعات بلکہ تمام جزئی باتیں اُن کو یاد تھیں۔ اُن سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page