سائنس کا کاروبار
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس کا کاروبار دہلی میں ہمارے محلے میں ایک صاحب تھے۔ لوگ ان کو ملّا جی کہتے تھے۔ وہ بھینس پالتے تھے اور دودھ کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کی دوستی ایک ہندو تاجر سے تھی۔ ان کے یہاں لوہے کا کاروبار تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ملاجی کی ایک بھینس مرگئی۔ وہ اپنے ہندو دوست سے ملے۔ اس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری ایک بھینس مرگئی۔ یہ سن کر لوہے کے ہندو تاجر نے کہا کہ ملاجی، تمھارا تو سائنس کا کاروبار ہے۔ آیا آیا، نہ آیا، یعنی ایک بھینس صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ اُس کا سانس چل رہا ہے۔ سانس اگر رک جائے تو بھینس کی زندگی بھی ختم ہوجائے گی۔ مذکورہ تاجر نے یہ بات ملاجی کے کاروبار کے بارے میں کہی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر زندہ انسان کا معاملہ یہی ہے۔ مذکورہ تاجر کو کہنا چاہیے تھا کہ ملاجی، ہمارا اور تمھارا معاملہ تو سانس کا معاملہ ہے۔ آیا آیا، نہ آیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader