Urdu book · آخرت کا سفر

آخرت کا سفر

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ اپنے یومِ پیدائش کو ہیپی برتھ ڈے‘‘ کے طور پر مناتے ہیں، لیکن حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے دیکھئے تو معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ہر نئی سال گرہ دراصل اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موت یا یومِ الحساب کا وقت اور زیادہ قریب آچکا، آخرت کی تیاری کا ایک اور سال کم ہوگیا۔ زندگی کے اُس پار آدمی بظاہر ایک کامل وجود ہے، مگر حقیقت میں وہ صرف ایک ناقص وجود ہے۔ انسان کے پاس آنکھ ہے، مگر وہ خارجی روشنی کے بغیر دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے پاس کان ہے، مگر خارجی ہوا کے بغیر وہ سن نہیں سکتا۔ انسان کے پاس چلنے کے لیے پاؤں ہے، مگر زمین میں متوازن قوتِ کشش نہ ہو تو وہ چل نہیں سکتا۔ انسان کے پاس کھانے کے لیے منہ ہے، لیکن خارج میں غذا کا سامان نہ ہو تو وہ کھانے کی ضرورت پوری نہیں کرسکتا۔ اب ایک ایسے وقت کا تصور کیجئے، جب کہ آپ پوری طرح اپنے اِسی وجود کے ساتھ زندہ حالت میں ہوں، لیکن وہاں آپ کی ضرورت کے تمام خارجی سامان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page