Urdu book · اسلام

حقیقت دین

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

باللہ اور وصول الی اللہ کے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے اور خدا کے درمیان صرف ایک خارجی قسم کے ذہنی مفروضہ کا تعلق نہیں ہے (کہ ہم فلاں عمل کو دہرائیں تو خود آسمان پر ہم سے خوش ہو جائیگا) بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہمارے اور اس کے درمیان ایک براہ راست تعلق بھی ہے۔ بندگی کا رویہ اپنی ظاہری شکل میں حکم کی تعمیل ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ دراصل اپنے آپ کو اس مقام پر لے جانا ہے جہاں بندہ خدا سے ملاقات کر سکے، جہاں اپنے رب سے اس کی سرگوشیاں ہوں، جہاں وہ اس کے آگے روئے اور گڑگڑائے، جہاں وہ بے تابانہ اس سے چمٹ جائے۔ جہاں وہ اس احساس سے دوچار ہو کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ اس طرح دنیا کی زندگی میں خدا کو پانا، یہی دین کی اعلیٰ ترین حقیقت ہے اور سارے احکام و آداب کا مقصود بندے کو اس مقام تک پہنچانا ہے۔ جس نے اس طرح دنیا میں اپنے رب کو پالیا، وہی آخرت میں اپنے رب کو پائے گا اور جو دنیا میں اس یافت سے محروم رہا، اس کو آخرت میں بھی تقارب رب کی نعمت پانے کی امید نہ کرنی چاہئے دین کی اس دولت کو پانے کی پہچان کیا ہے ، اس کی ایک پہچان یہ ہے کہ آدمی کو ”رزق رب“ (طہ ۱۳۱) پہنچنے لگے۔ خدا کے حکم کی تعمیل میں بظاہر آپ جو کچھ کرتے ہیں، وہ آپ کے اپنے اختیار میں ہے، چاہیں نوکری کریں اور چاہیں نہ نہ کریں۔ مگر اس عمل کے دوران میں جو مخصوص اندرونی کیفیات آپ پر گزرتی ہیں وہ آپ کے اختیار میں نہیں ہیں۔ آپ خود سے انھیں پیدا نہیں کر سکتے۔ پھر یہ کیفیات کہاں سے آتی ہیں ۔ وہ دراصل خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ مومن کا رزق ہے جس کے بغیر اس کی ایمانی شخصیت زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہی علم وعمل کا وہ رزق ہے جو حضرت مریم کی ذات میں دیکھ کر وقت کے نبی نے پوچھا تھا ”یہ تمھارے پاس کہاں سے آتا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہو من عند اللہ (آل عمران - ۳۷) آپ کی کوششیں آپ کا عمل ہیں اور یہ کیفیات وہ بدلہ ہیں جو خدا کی طرف سے حسن عمل کے صلہ میں دیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اپنے بہترین انعام کو ادھار نہیں چھوڑا بلکہ اسے نقد رکھا ہے۔ بندہ مومن اس انعام کو اسی لمحہ پالیتا ہے جب وہ اس کے پانے کا استحقاق پیدا کرتا ہے۔ جب ہمارا آقا ہمارے کسی عمل کو قبول کرتا ہے، اس وقت حیرت انگیز طور پر کچھ ملکوتی قسم کی واردات ہمارے اوپر گزرتی ہیں۔ یہ اس جنت کا تعارف ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مومنین صالحین سے وعدہ فرمایا ہے۔ یہ باغ بہشت کی خوشبو ہے جس کو اہل ایمان دنیا کے اندر پاتے ہیں۔ یہ کیفیات اگرچہ تڑپ کی شکل میں ہوتی ہیں مگر وہ تمام لذتوں سے زیادہ لذيذ ہیں۔ کسی بھی معلوم دنیوی لذت پر ان کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک وجدانی ثبوت ہے کہ یہ کیفیات اس اعلیٰ تر انعام الہی کا عکس ہیں جس کو جنت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں اہل ایمان کو جنت ملنے والی ہے، وہ ان کے لئے ایک رزق معلوم (صافات - ۴۱) ہوگا ۔ وہ ان کے لئے کوئی اجنبی چیز نہیں ہوگی ، بلکہ وہ ایک جانی پہچانی چیز ہوگی جس سے وہ دنیا کی زندگی میں آشنا ہو چکے تھے : ويدخلهم الجنة عرفها لهم محمد - ۶ اللہ انھیں جنت میں داخل کریگا جس کی پہچان انھیں کرادی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page