Urdu book · اسلام

حقیقت دین

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اس ارشادِ رسول کے مطابق اعلیٰ ترین عبادت یہ ہے کہ بندہ خدا کی یاد اور اس کے تصور میں اتنا گم ہو جائے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے قریب محسوس کرنے لگے۔ اس پر استحضار کی ایسی کیفیت طاری ہو گو یا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے، یہی کیفیت قربت، عبادت کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ وہ تمام اعمالِ حی کو قربات یا مناسک یا مراسمِ عبودیت کہا جاتا ہے، وہ اسی عبادت تک پہنچنے کے طریقے اور ان کے لازمی مظاہر ہیں جو خود خدا کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان مظاہر کے بغیر یا ان کے باہر ہر خدا کی عبادت کا دعوے دار ہو تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے، کیوں کہ ان کے بغیر حقیقہ کسی کے اندر عبادت پائی ہی نہیں جاسکتی۔ انسان اگرچہ فی الواقع اس مخصوص روح کا نام ہے جو جسم کو نظر نہیں آتی مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی جسم کے بغیر اس دنیا میں انسانی وجود کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ عبادت کا لفظ اگرچہ ایک لحاظ سے ساری شریعت پر حاوی ہے۔ کیوں کہ بندہ اپنے معبود کو راضی کرنے اور اس کے حکم پر کار بند ہونے کے لئے جو کچھ کرتا ہے، ان سب کا محرک اس کا جذبہ عبودیت ہی ہوتا ہے۔ مگر عبادت اصلاً اور اولاً اس مخصوص عمل کا نام ہے جو بندہ اور خدا کے درمیان ہوتا ہے، بندے اور بندے کے درمیان کا عمل عبادت کا تقاضا ہے، جب کہ خدا اور بندے کے درمیان کا عمل بذاتِ خود عبادت ہے۔ بندہ جب نماز پڑھتا ہے تو وہ براہ راست خدا کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے۔ وہ عین اس کے آگے اس طرح جھکتا ہے کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی تیسرا وجود حائل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اخلاق و معاملات میں جب وہ احکام الہی کی تعمیل کرتا ہے تو وہ دوسروں کے اوپر اپنی عابدانہ حیثیت کے تقاضے پورے کر رہا ہوتا ہے۔ تعمیل کے پہلو سے یہ تقاضے بھی اسی طرح لازم ہیں جس طرح مخصوص عبادتی افعال۔ البتہ دونوں میں نوعیت کا جو فرق ہے اس کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ورنہ دین کا صحیح تصور ذہنوں میں قائم نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ تقاضے ہمیشہ کسی دوسری چیز کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں، جب کہ اصل حقیقت مطلقاً مطلوب ہوتی ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ ”مسلمان ہونے کا تقاضا ہے کہ آدمی وراثت کا مال خدا کے قانون کے مطابق تقسیم کرے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ہر آدمی لازماً اس بات کی کوشش کرے کہ اس کے پاس ترکہ میں کچھ جائیداد آئے تاکہ اس کو حق داروں کے درمیان ٹھیک ٹھیک تقسیم کرکے وہ حکم وراثت کی تعمیل کر سکے، ورنہ اس کا ایمان مکمل نہ ہوگا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کو ترکہ میں کوئی جائیداد یا سرمایہ ملے تو اس وقت اس کے ایمان و اسلام کا تقاضا ہے کہ وہ احکام وراثت کے مطابق اس میں تصرف کرے۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جو حصول جائیداد کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے نہ کہ وہ عبادت الہی کی طرح علی الاطلاق ہر شخص کے اوپر عائد ہے۔ عبادت کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا سے محبت اور خون کے تعلق کی حیثیت محض یہ نہیں ہے کہ وہ عملی زندگی کے لئے ایک ”محرک“ ہے بلکہ وہی اصل مطلوب ہے جس کو اس دنیا میں ہمیں پانا ہے۔ سارے اعمال و افعال کا حاصل یہی ہے کہ وہ ہمارے لئے اس حسانی یافت کے حصول کا ذریعہ بن جائیں جس کو تعلق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page