Urdu book · اسلام

اسلام

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : والذی نفسی بیدہ ان احدهم بمنزلہ فی الجنۃ دنیا میں کوئی شخص جس طرح اپنے گھر کو پہچانتا ہے، اھدی منہ بمنزلہ الذی کان فی الدنیا جنت میں جانے والا اس سے زیادہ وہاں اپنے گھر کو (اخرجہ البخاری فی صحیحہ) پہچان لے گا جب آدمی کو ایسا صدقہ کرنے کی توفیق ہوتی ہے جس کے اندر الذین یوتون ما آتوا وقلوبہم وجلۃ (مومنون - ۶۱) کی روح کام کر رہی ہو، جب اس کو ایسی تلاوت نصیب ہوتی ہے جب وہ ترى اعينهم تفيض من الدمع (مائدہ - ۸۳) کی تصویر بن گیا ہو، جب وہ اپنے رب کے اشتیاق میں ایسی رات گزارتا ہے جس کو قرآن میں تتجافى جنوبهم عن المضاجع (السجدہ - ۱۶) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ جب اس پر وہ درد انگیز لمحات گزرتے ہیں جس میں وہ الذین آمنوا اشد حبا للہ (بقرہ - ۱۱۵) کی حقیقت کا ادراک کرتا ہے۔ جب اس کے اوپر ایمان کی لطیف ترین حسیات وارد ہوتی ہیں، جب چھپی ہوئی حقیقتوں کا کوئی پردہ اس کے اوپر سے اٹھا دیا جاتا ہے۔ جب وہ بے قرار دل اور کپکپاتے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ اپنے آقا کو ایسے الہامی الفاظ میں پکارتا ہے جن کو اس نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا، تو یہ در اصل ایک رزق رب ہوتا ہے جو اسے پہنچتا ہے ۔ وہ ان پھلوں میں سے ایک پھل کا مزہ چکھتا ہے جو اس کے رب نے اس کے لئے چھپارکھے ہیں۔ دنیا میں ان پھلوں کا نام ایمانی کیفیات ہے اور آخرت میں وہ جنت کے انعامات کی صورت میں ہمیں ملیں گے۔ اس وقت اہل ایمان محسوس کریں گے کہ یہ نام نہی چیزیں ہیں جن کا مزا دنیا کی زندگی میں انھیں چکھایا گیا تھا : كلما رزقوا منها من ثمرۃ رزقاً قالوا هذا الذي جب انھیں جنت کا کوئی پھل ملے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ ہی رزقنا من قبل وأتوا به متشابها (بقره - ۲۵) ہے جو پہلے ہم کو دیا گیا تھا اور ان کو ملتے جلتے پھل دیئے جائیں گے آخرت میں جو کچھ اہل جنت کو ملنے والا ہے، وہ عطائے متشابہ ہے، وہ مومن کی معلوم و معروف چیز ہے۔ پھر کس قدر نادانی ہوگی اگر کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ وہ آخرت میں ان ذائقوں کو پا سکتا ہے جس سے وہ دنیا کی زندگی میں نا آشنا رہا تھا۔ اگر دنیا میں آپ پر ایسے لمحات نہیں گزرے جب کہ آپ تمام چیزوں سے زیادہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرتے ہوں تو آخرت میں خدا کی قربت آپ کو کس طرح مل سکتی ہے۔ بے شک نماز اتنے بڑے اجر کی موجب ہے جس کو دیکھ کر آخرت میں نمازیوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ مگر یہ نعمت تو اسی کا حصہ ہے جو دنیا میں ایسی نمازوں سے آشنا ہوا ہو جس کے متعلق رسول ﷺ نے فرمایا ہے : جعلت قرۃ عینی فی الصلوٰۃ (نسائی) عبادت کے تقاضے انسان سے اللہ تعالیٰ کو اولاً اور اصلاً جو چیز مطلوب ہے، وہ یہی ہے کہ انسان اس کے آگے عاجزی اختیار کرے، اسی کا نام عبادت ہے۔ مگر آدمی کو خلا میں نہیں پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کو واقعات سے بھری ہوئی ایک دنیا میں رکھا گیا ہے۔ اس لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ ان تمام پہلوؤں میں بھی عابد کی حیثیت عبودیت کا اظہار ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page