Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

ہجرت مدینہ کے قبائل (انصار) نے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ساتھ دیا وہ تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ لوگ کسی کو کوئی چیز دیتے ہیں تو وہ یا بدلہ کے طور پر ہوتا ہے یا خوف کی وجہ سے۔ لیکن دین کی تیسری قسم وہ ہے جو ”برکت“ کے تصور کے تحت وجود میں آتی ہے۔ کچھ زندہ یا مردہ لوگوں کے بارے میں یہ مرض کر لیا جاتا ہے کہ وہ ”بزرگ“ ہیں، اور ان کے اوپر خرچ کرنا یا چڑھاو ا چھڑکانا اولاد اور اموال میں ترقی کا باعث ہوگا۔ مگر معلوم انسانی تاریخ میں غالباً یہ پہلی نمایاں مثال ہے کہ ایک قوم نے خالص مقصدی بنیادوں پر لٹے پٹے مہاجرین کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے۔ ان کو نہ صرف اپنے گھروں میں جگہ دی بلکہ مواخات قائم کر کے ان کو سگے بھائی کی طرح اپنی جائیدادوں میں حصہ دار بنا دیا۔ اور یہ سب کچھ یہ جانتے ہوئے کیا کہ مہاجرین کی یہ امداد صرف اقتصادی قربانی ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ عرب عجم کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ حضرت علی کے یہ دو الفاظ ان کی بہترین تصویر ہیں: کانوا صدقتاء صبراء (او سد خزرج کے لوگ) بڑے سچے اور بڑے صبر (البدایہ والنہایہ، جلد ۳) کرنے والے تھے۔ جب مہاجرین اپنا وطن چھوڑ کر یثرب پہنچے تو انصار کا یہ حال تھا کہ ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ مجھے میزبانی کا شرف حاصل ہو۔ حتی کہ اس کے لئے قرعہ اندازی کی نوبت آگئی۔ انھوں نے اپنے اموالی کے بہترین حصہ کو مہاجرین کے حوالے کر دیا (ولقد تشاحوا فينا حتى ان كانوا ليقترعون علينا ثم كنا في اموالهم احق بها منهم) ان کے غیر معمولی ایثار کے با وجود ان سے باقاعدہ بیعت لی گئی کہ عہدوں کی تقسیم میں دوسروں کو ان پر ترجیح دی جائیگی (اثرة علينا) مگر وہ اس کے لئے جھگڑا نہ کریں گے (ان لا تنازع الامر اهلّه) تہذیب سیرت ابن ہشام، جلد اول، صفحہ ۱۱۱ تا ہم ہجرت کے بعد مدینہ کی زندگی آپ کے لئے کوئی آرام کی زندگی نہ تھی۔ اہل عرب کی متحدہ جارحیت کے بارے میں تمام اندیشے اپنی بدترین شکل میں صحیح ثابت ہوئے ۔ حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں: لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم اصحابه المدينة جب آپ اور آپ کے اصحاب مدینہ آئے اور انصار وآدتهم الانصار رمتهم العرب عن قوس واحدة نے انھیں پناہ دی تو تمام عرب نے مل کر آپ کو نشانہ پر فكانو الا يبيتون الا فى السلاح ولا يصبحون الا فيه لے لیا۔ مدینہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ وہ ہتھیاروں (کنز العمال جلدا ، صفحه ۲۵۹) کے ساتھ رات گزارتے اور ہتھیار کے ساتھ صبح کرتے۔ قریش نے تمام عرب میں اہل مدینہ کے معاشی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ شہر کی معاشیات اچانک بڑھ جانے والی دگنا آبادی کے لئے انتہائی ناکافی ہو گئیں۔ اس پر مزید آئے دن ہونے والی جنگوں کے اخراجات، ان چیزوں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page