Urdu book · اسلام

دعوت کی زبان

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لوگوں نے آپ کی دعوت سنی تو انھوں نے کہا "بخدا یہی وہ نبی ہے جس کے بارے میں یہود ہم سے کہا کرتے تھے۔ قبل اس کے کہ یہود سبقت کریں ہمیں آپ پر ایمان لاکر آپ کے گروہ میں شامل ہو جانا چاہیے"۔ اس مخصوص پس منظر کے علاوہ دوسرے تاریخی اور سماجی اسباب بھی تھے جس کی وجہ سے اوس و خزرج کے لیے آپ کی بات کو سمجھنا اور اس کو مان لینا دیگر عرب قبائل کے مقابلے میں آسان ہو گیا اور انھوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ اب وہ وقت آگیا تھا جس کے آپ برسوں سے منتظر تھے۔ آپ کو ایک ایسی جگہ مل گئی تھی جہاں قبائلی حمایت کے تحت اپنی جدوجہد کو مؤثر شکل میں جاری رکھ سکیں اور مکہ اور اطراف مکہ کے مسلمانوں کو ایک مقام پر جمع کر کے اس کو اسلامی مرکز بنا دیں۔ اہل یثرب کا بڑی تعداد میں اسلام لانا اس بات کا امکان پیدا کرتا تھا کہ کہ اسلام کی متفرق طاقتوں کو ایک مرکز پر اکٹھا کر دیا جائے اور پھر دعوت حق کی جدوجہد کو زیادہ مؤثر شکل میں جاری رکھا جا سکے۔ چنانچہ حب اوس و خزرج نے بیعت کر لی تو تاریخ میں آتا ہے کہ : قال : فلم یلبث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ فوراً اپنے اصحاب کی طرف لوٹے اور ان سے الا یسیرا حتی خرج الی اصحابہ کہا۔ خدا کا شکر کرو، اللہ نے آج کے دن ربیعہ کی فقال لہم : احمد واللہ کثیرا فقد نصرت اولاد کو اہل فارس پر غلبہ دے دیا الیوم ابناء ربیعة باھل فارس البدایہ والنہایہ، جلد ۳، صفحہ ۱۴۵ آپ نے ہجرت کی تیاری شروع کر دی۔ آپ کے انتہائی اخفاء کے باوجود قریش کو بھی خبریں مل رہی تھیں۔ طبرانی نے حضرت عروہ کے حوالے سے نقل کیا ہے : ان مشرکی قریش اجمعوا امرہم ومکرہم حین مشرکین قریش نے جب یہ گمان کر لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ ظنوا ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم مکہ سے چلے جائیں گے اور انھیں معلوم ہوا کہ اللہ خارج وعلموا ان اللہ قد جعل لہ بالمدینۃ نے آپ کے لئے مدینہ میں ٹھکانا اور حفاظت کا انتظام ماوی ومنعة وبلغہم اسلام الانصار ومن کر دیا ہے اور انھوں نے سنا کہ انصار نے اسلام قبول خرج الیہم من المہاجرین، فاجتمعوا امرہم کر لیا ہے اور مہاجرین مدینہ میں جمع ہو رہے ہیں تو علی ان یاخذوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ انھوں نے آپ کے خلاف سازش کی اور طے کیا کہ وسلم فاما ان یقتلوہ واما ان یسجنوه واما آپ کو گرفتار کر لیں اور اس کے بعد یا تو قتل کر دیں : ان یوثقوہ واما ان یخرجو ہ قید میں ڈال دیں یا شہر بدر کر دیں یا باندھ کر رکھیں۔ (اخرجہ الطبرانی عن عروة مرسلا) اوس و خزرج کے ایمان کے بعد آپ نے چھ مہینے کے دوران سفر کا انتہائی کامل منصوبہ بنایا، اور اس کے بعد نہایت خاموشی سے مکہ سے نکل گئے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page