Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

معاشی تنگی کو اپنے آخری درجہ پر پہنچا دیا۔ حضرت عمر کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اسلام کو مدینہ میں دیکھا ہے۔ آپ سارے دن بھوک سے بے قرار رہتے۔ ردی کھجوریں بھی اتنی میسر نہ آتیں جس سے اپنا پیٹ بھر سکیں۔ بعد کے دور میں حضرت عائشہ سے کسی نے چراغ کا ذکر کیا تو انھوں نے جواب دیا: اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لئے تیل ہوتا تو اس کو ہم پی جاتے۔ غزوات میں بے سرو سامانی کا عالم یہ تھا کہ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں، ہم لوگ آپ کے ہمراہ غزوہ کے لئے نکلے۔ ہمارے پاس چھ آدمیوں کے درمیان صرف ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے۔ مسلسل پیدل چلنے کی وجہ سے ہمارے قدم چھلنی ہو گئے اور ہم نے اپنے پیروں پر چیتھڑے لپیٹ لئے، اسی لئے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا) رکھا گیا۔ غزوات کے سفر میں کھانے کا ذخیرہ اتنا کم ہوتا تھا کہ بعض اوقات لوگ کھجور کو کھانے کے بجائے چوستے تھے، اور بقیہ کمی کو ببول کے پتوں اور ٹڈیوں کے ذریعہ پوری کرتے تھے۔ اس پر مزید اضافہ وہ بیماری تھی جو غذائی عادت کی تبدیلی سے پیدا ہوئی۔ مکہ کے باشندے گوشت اور دودھ کے عادی تھے۔ مدینہ میں انھیں کھجور کھانے کو ملی۔ طبرانی نے روایت کیا ہے کہ ایک روز جب کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں تشریف لائے، ایک مکی مسلمان نے چلا کر کہا: یا رسول الله ! احرق بطوننا التمر (طبرانی) اے خدا کے رسول! کھجور نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا آپ کے مدینہ پہنچنے کے بعد اسلام عملی اور تاریخی طور پر دعوت کے مرحلہ سے نکل کر عملی مقابلہ کے مرحلہ میں داخل ہو گیا۔ دورِ دعوت میں آپ کا اصول یہ تھا کہ لوگوں کے معاشی، سیاسی، قبائلی اور اس طرح کے دوسرے نزاعی مسائل کو نہ چھیڑتے ہوئے اور اس سے بے تعلق رہ کر خالص ”انذار و تبشیر“ کے کام میں مشغول رہیں۔ بنی عامر بن صعصعہ کو آپ نے سوق عکاظ میں اسلام کی دعوت دی تو انھیں یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ میں صرف پُر امن طور پر اپنا دینی پیغام پہنچاؤں گا۔ اس کے علاوہ تمھارے درمیان کوئی سیاسی، اقتصادی یا قبائلی جھگڑا نہیں کھڑا کروں گا آپ نے ان سے فرمایا: انی رسول الله ، فان اتیتکم تمنعونی حتی ابلغ میں اللہ کا رسول ہوں۔ میں تمھارے یہاں آؤں تو کیا رسالة ربی ولم اکره احدا منکم علی شیئ تم میری حفاظت کرو گے تاکہ میں اللہ کے پیغام کو لوگوں تک ابونعیم، دلائل النبوۃ، ۱۰۰ پہنچا دوں اور میں تم میں سے کسی کو کسی چیز پر مجبور نہیں کروں گا۔ بعثت کے اصل مقصد کی حیثیت سے یہ کام اب بھی بدستور جاری تھا۔ مگر اب اسلام کو ایک اور چیز سے نمٹنا تھا۔ اور وہ ماحول کے پیدا کردہ عملی مسائل تھے۔ اس سلسلے میں آپ نے اپنے سامنے بنیادی اصول یہ رکھا کہ ایسے طریقے اختیار کئے جائیں جن سے لوگوں کے دل اسلام کے لئے نرم ہو جائیں، اور لڑائی بھڑائی کے بغیر اسلامی مقاصد تک پہنچنا ممکن ہو سکے۔ یہی وہ بات ہے جس کو آپ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے: نصرت بالرعب علی مسيرة شهر ایک مہینہ تک کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی ہے۔ اس طریق عمل کے دو خاص پہلو تھے۔ ایک قوت مرہبہ کا حصول (انفال۔ ۶۰) دوسرے تالیف قلب (توبہ۔ ۶۰)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page