ہجرت
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
تالیفِ قلب کے تحت آپ نے لوگوں کو اس کثرت سے اموال دیئے کہ داد و دہش کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صفوان بن امیہ مکہ کے بڑے سردار تھے۔ فتح مکہ کے بعد وہ بھاگ کر ایک گھاٹی میں چھپ گئے۔ آپ نے انھیں امان دے کر بلایا۔ ہوابزن کی فتح کے بعد جب آپ جعرانہ کے مقام پر مال غنیمت کی دیکھ بھال کر رہے تھے، اس وقت صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ تھے اور ابھی حالتِ کفر میں تھے۔ صفوان بن امیہ ایک گھاٹی پر پہنچے جو بکریوں اور اونٹوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ حیرت و استعجاب کے ساتھ مسلسل اس کو دیکھتے رہے۔ آپ نے ان کا یہ حال دیکھ کر پوچھا " اے ابو وہب ! کیا یہ مال سے بھری ہوئی گھاٹی تم کو پسند ہے"، صفوان نے کہا ہاں۔ آپ نے فرمایا ہو لک وما فیہ (وہ اور اس میں جو کچھ ہے، سب تمھارا ہے) صفوان نے یہ سن کر کہا، نبی کے سوا کسی کا نفس اتنی بڑی سخاوت نہیں کر سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ (واسلم مکانہ) کنزالعمال جلد ۵، صفحہ ۲۹۴ آپ کا متعدد شادیاں کرنا بھی ایک اعتبار سے اسی ذیل کا ایک واقعہ ہے۔ قبائی نظام میں رشتہ داری اولین اہمیت کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ ہجرت کے بعد آپ کا کئی شادیاں کرنے کا اہم پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعہ بے شمار لوگوں سے رشتہ داریاں قائم ہوگئیں اور ان کے قلوب آپ کے اور آپ کی دعوت کے حق میں نرم پڑ گئے۔ پہلی شادی کے علاوہ، جو آپ نے تقریباً آدھی عمر کی بیوہ سے نبوت سے پہلے کی تھی، دوسری شادیاں حقیقتاً ازدواجی تقاضنے کے تحت وقوع میں نہیں آئیں، بلکہ ان کے ذریعہ اہم دعوتی اور سیاسی فائدے حاصل کرنا مقصود تھا۔ معاہدہ حدیبیہ کی رو سے اگلے سال (۶۲۸) آپ دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ گئے۔ اس موقع پر تین روزہ قیام کے دوران آپ نے میمونہ بنت الحارث سے نکاح کیا جو بیوہ ہوگئی تھیں۔ میمونہ کی آٹھ بہنیں تھیں جن کی شادی مکہ کے آٹھ ممتاز گھرانوں میں ہوئی تھی۔ آپ نے میمونہ سے نکاح کرکے آٹھ خاندانوں سے اپنی رشتہ داری قائم کرلی۔ نیز خالد بن ولید میمونہ کے بھتیجے تھے اور انھوں نے ان کو اپنے بچے کی طرح پالا تھا۔ نکاح کے بعد قریش کا سب سے بڑا فوجی سردار آپ کا بیٹا ہوگیا۔ چنانچہ اس کے بعد پھر خالد بن ولید مسلمانوں کے خلاف کسی معرکہ میں نہیں نکلے اور جلد ہی مسلمان ہوگئے ۔ اس تقریب سے آپ نے مکہ والوں کی دعوت ولیمہ کا بھی انتظام کیا تھا۔ مگر مکہ والوں نے کہا کہ معاہدہ کے مطابق آپ صرف تین روز مکہ میں ٹھہر سکتے ہیں اور یہ مدت پوری ہو چکی ہے، آپ کو فوراً واپس جانا چاہئے۔ اس لئے آپ مکہ والوں کو ولیمہ نہ کھلا سکے جو در حقیقت ان کی تالیفِ قلب کے لئے انتہائی اہمیت رکھتا تھا۔ خالد بن الولید اور عمروبن العاص دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔ جب وہ مدینہ پہنچے توان کو دیکھ کر ایک شخص چیخ پڑا : ان دو کے بعد مکہ نے اپنی نکیل دے دی (قد اعطت مكة المقادة بعد هذین ، اخرجہ البیهقی من طريق الواقدی) ام حبیبہ بنت ابو سفیان اور ان کے شوہر عبید اللہ بن جحش نے اسلام قبول کر لیا تھا اور دونوں ہجرت کر کے حبش چلے گئے۔ وہاں ان کے شوہر نے نصرانیت اختیار کرلی، اس کے بعد جلد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ نے ام حبیبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader