Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

سے نکاح کا منصوبہ بنایا۔ اس طرح آپ ابوسفیان کے داماد ہوجاتے تھے جو بدر میں ابو جہل کے قتل ہو جانے کے بعد مکہ کے سب سے بڑے لیڈر تھے۔ اس کے لئے آپ نے غائبانہ نکاح کا انتظام کیا۔ کیونکہ اندیشہ تھا کہ اگر ام حبیبہ حبش سے مکہ واپس آگئیں تو ان کا باپ آپ سے نکاح نہ ہونے دے گا۔ ام حبیبہ سے آپ کا نکاح غائبانہ طور پر نجاشی (بادشاہ حبش) نے پڑھایا۔ اس کے بعد وہ بندھی مدینہ بھیج دی گئیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد ابو سفیان کی مخالفت کمزور پڑ گئی۔ یہاں تک کہ فتح مکہ سے ایک دن پہلے انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس حکمت کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو قرآن کے الفاظ میں "ارباہ" کی پالیسی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی طاقت کے استعمال کے بجائے طاقت کے مظاہرے کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ احد (۳ ھ) کی شکست مسلمانوں کے لئے مکمل شکست تھی اگر ابوسفیان اپنی فوج کو لے کر واپس نہ ہوجاتا اور اگلے روز دوبارہ حملہ کرتا۔ چنانچہ روحاء کے مقام پر پہنچ کر ابو سفیان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، اور وہ اپنی فوج کو دوبارہ مدینہ کی طرف واپس لوٹانے کا ارادہ کرنے لگا۔ مگر اس سخت ترین انتشار کی حالت میں بھی پیغمبر اسلام کا جنگی اطلاعات کا نظام اتنا مکمل تھا کہ آپ کو فوراً ابوسفیان کے ارادہ کی خبر ہوگئی۔ آپ نے اقدام کا فیصلہ کیا۔ آپ نے اپنی زخمی فوج کو منظم کرکے فوراً مکہ کی طرف کوچ کر دیا اور حمراء الاسد تک پہنچ گئے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع تھا ۔ آپ کا یہ سفر پورے اعلان و اظہار کے ساتھ تھا جب کہ عام طور پر آپ نہایت خاموشی کے ساتھ کوچ کیا کرتے تھے ۔ ابو سفیان کو خبر ہوئی تو اس نے سمجھا کہ آپ کو مزید کمک آگئی ہے۔ وہ واپسی کا ارادہ ترک کرکے مکہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ جب آپ کو اطمینان ہوگیا کہ ابو سفیان کی فوج واپس ہو چکی ہے تو آپ مدینہ لوٹ آئے۔ غزوۂ مُؤتہ (جمادی الاول ۵ ھ) کے اگلے سال قیصر روم نے سرحد شام پر فوجی تیاریاں شروع کر دیں ۔ اس کے ماتحت غسانی اور دوسرے عرب سردار بھی فوج اکٹھا کرنے لگے۔ اس کے جواب میں آپ ۳۰ ہزار کا لشکر لے کر نکلے جس کو غزوہ تبوک (رجب ۵ ھ) کہا جاتا ہے۔ تبوک کا غزوہ حقیقۃً ایک جنگی تدبیر تھی جس کا مقصد دشمن کے اقدام سے پہلے اقدام تھا، تاکہ دشمن مرعوب ہو کر اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ چنانچہ تبوک کے مقام پر پہنچ کر جب معلوم ہوا کہ قیصر نے مقابلہ کے لئے بڑھنے کے بجائے سرحد سے اپنی فوجیں ہٹانی شروع کر دی ہیں تو آپ نے بھی حربی ارادہ ترک کر دیا۔ البتہ قیصر کے ہٹ جانے سے آپ کو جو اخلاقی فتح حاصل ہوئی تھی اس سے آپ نے سیاسی فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنایا۔ آپ نے تبوک میں میں دن ٹھہر کر سرحد کے ان قبائل سے ربط قائم کیا، جو اس وقت تک رومیوں کے زیر اثر تھے۔ اس سلسلے میں دومۃ الجندل کے عیسائی رئیس اکیدر بن عبدالملک کندی، ایلہ کے عیسائی یوحنا بن روبہ، اور اسی طرح مقنا ، جر بار اور اذرح کے نصرانی رؤسا نے بھی جزیہ ادا کر کے مدینہ کی ماتحت قبول کی۔ ابوبکر صدیق کی خلافت کے بعد جیش اسامہ کی روانگی بھی اسی قسم کا ایک واقعہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قبیلہ طے کے سوا مدینہ کے اطراف کے تمام عرب قبائل باغی ہوگئے ۔ اپنی تعداد کی کمی اور دشمن کی کثرت کی وجہ سے مسلمانوں کا حال ایسا ہورہا تھا جیسے "جاڑے کی بارش میں بھیگی ہوئی بکری"۔ اس وقت بظاہر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page