ہجرت
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
حالات کا تقاضا تھا کہ اندرونی دشمنوں کو زیر کرنے کے لئے اپنی طاقت کو محفوظ رکھا جائے۔ مگر پیغمبر کے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے خلیفہ اول نے طے کیا کہ اسامہ کے لشکر کو جو سات سو افراد پر مشتمل تھا رومیوں کے مقابلے کے لئے شام روانہ کردیں۔ اس اقدام کا جو اثر پڑا وہ حضرت ابو ہریرہ کے الفاظ میں یہ ہے : فجعل لا يمر بقبیل يريدون الارتداد الا قالوا: اسامہ رض کا لشکر جب ان قبیلوں پر سے گزرتا جو مرتد ہونا لولا ان لهولاء قوة ما خرج مثل هولاء من چاہ رہے تھے۔ وہ کہتے اگر مسلمانوں کے پاس قوت عند هم ومن عنهم حتى يلقوا الـردم، فنلقوا نہ ہوتی تو اس قسم کی فوج ان کے پاس سے روانہ نہ ہوتی۔ الـروم فهزموهم وقتلوهم ورجعوا اسـالمین ہم ابھی انھیں چھوڑ دیں اور روم سے لڑنے دیں، چنانچہ وہ رومیوں سے لڑے اور انھیں شکست دی اور انھیں قتل کیا اور سلامتی کے ساتھ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر ارتداد کا ارادہ کرنے والے بھی اسلام پر جم گئے۔ آپ مدینہ پہنچے تو وہاں مشرکین کی ایک مختصر اقلیت کو چھوڑ کر دو بڑے گروہ آباد تھے، یہود اور مسلمان۔ پھر یہ بھی مختلف ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے جن کے درمیان کوئی اتفاق نہ تھا۔ لوگ نفسیاتی طور پر ایک ایسے شخص کے منتظر تھے جو ان کے درمیان اتحاد اور نظم پیدا کر دے۔ آپ نے اس صورت حال کا اندازہ کرکے اپنی طرف سے ایک صحیفہ (نہ کہ معاہدہ) جاری کر دیا جس میں یہود اور مسلمانوں کو مستقل حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا لانہم امۃ واحـدة مـن دون الناس، ان يهود امة مع المومنین ۔ لليهود دينهم وللمسلمين دينهم) اس صحیفہ میں دونوں کے مروجہ حقوق اور ذمہ داریوں کو چھیڑے بغیر انھیں ایک قابلِ قبول شکل میں تسلیم کر لیا گیا۔ اور اس کے بعد ایک دفعہ ان لفظوں میں شامل کردی گئی : وانكم مهما اختلفتم فيه من شئ ، فان مردَّہ اور جب بھی تم میں کسی معاملہ میں کوئی اختلاف ہو الى الله عز وجل والی محمد تو وہ معاملہ خدا اور رسول کی طرف لوٹے گا۔ تہذیب سیرۃ ابن ہشام ، ۱۲۹ اس طرح یہ صحیفہ گویا ایک قسم کا سیاسی اقدام تھا جس کے ذریعہ آپ نے انتہائی حکیمانہ طور پر مدینہ کے اوپر اسلام کی دستوری حکومت کا اعلان کر دیا۔ آپ کے مدینہ پہنچنے کے بعد قریش کا غصہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ سارے مسلمانوں نے سمٹ کر ایک مقام پر اپنا مضبوط مرکز بنا لیا ہے۔ ہجرت کے دوسرے ہی سال آپ کے سامنے یہ نازک صورت حال آئی کہ یا تو آگے بڑھ کر قریش کے لشکر کا مقابلہ کریں یا اس موقع دی کہ وہ مدینہ میں گھس آئے اور اسلام کے بنتے ہوئے آشیانہ کو منتشر کردے۔ اگرچہ قریش کے لشکر کی تعداد ساڑھے نو سو اور مسلمانوں میں قابلِ جنگ افراد کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی ۔ مگر آپ نے اپنے پیغمبرانہ تدبر سے یہ سمجھا کہ اہل شرک اپنی کثرت کے باوجود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader