Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف نفرت اور حسد کا منفی سرمایہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے پاس ایمان ویقین کا مثبت خزانہ ہے جوادل الذکر سے بدرجہا زیادہ طاقت درہے۔ اس کے علاوہ عرب اپنے جاہلی نخوت کے تحت اکیلے اکیلے لڑتے تھے تا کہ ہر شخص اپنا منفر دکمال دکھائے اور بہادر مشہور ہو۔ مسلمان اللہ پر ایمان لا کر اپنے اندر یہ کم نزوری ختم کر چکے تھے۔ آپ نے انھیں عرب تاریخ میں پہلی بار مورچہ بندی کی تلقین کی ۔ آپ نے انھیں سکھایا کہ ذاتی کمال دکھانے کا شوق نہ کرو، بلکہ دستہ بنا کر لڑو۔ قریش کی انفرادی طاقت کو اپنی اجتماعی طاقت سے شکست دو (صف ۲۴) ایمان اور مورچہ بندی کی طاقت سے وہ عظیم الشان واقعہ وجود میں آیا جس کو سلام کی تاریخ میں بدر کی فتح کہتے ہیں۔ فتح اسلام بدر کی شکست نے دوبارہ قریش کو بھڑکایا اور مختصر سی مدت میں ان سے کئی معرکے پیش آئے ، جن میں احد ( ۳ھ) اور احزاب ( ۵ ھ) خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان غزوات میں مسلمانوں کو شدید ترین مصائب پیش آئے۔ غزوہ خندق میں ۱۰۰ آدمی تھے۔ مگر سردی اور بھوک اور تکان کا عالم یہ تھا کہ جب آپ نے دشمن کی جاسوسی کے لئے ایک شخص کو بھیجنا چاہاتو تین بار آواز دینے کے بعد بھی کوئی نہ اٹھا، یہاں تک کہ آپ حضرت حذیفہ کے پاس آئے اور نام لے کر ان کو بلایا اور ان کو اس کام پر متعین کیا۔ دوسری طرف مدینہ کے یہود ایک مستقل اندرونی مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ قریش سے مل کر دونوں کے درمیان اسلام کے خلاف سازشیں جاری رہتی تھیں۔ خندق کے ۲۰ روزہ محاصرہ کے بعد جب ایک شدید آندھی سے مجبور ہو کر قریش کی فوج مکہ واپس ہوئی تو آپ نے اس موقع کو مدینہ کے اندرونی یہودیوں سے نمٹنے کے لئے موزوں ترین سمجھا جس میں ان یہودیوں کی سازش اور بغاوت برہنہ ہو کر سامنے آچکی تھی ۔ آپ نے مدینہ کے قبائل ( بنو نضیر، بنو قینقاع بنو قریظہ) کو خندق سے لوٹتے ہی فور آگهیر لیا اور ان پر خود ان کی کتاب تو رات کے قانون کو جاری کر کے ان کے مسئلہ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ اب مسئلہ خیبر کا تھا۔ ہجرت کے چھٹے سال یہ صورت حال تھی کہ درمیان میں مدینہ کا دار السلام تھا اور جنوب میں چار سو کلومیٹر کے فاصلہ پر مکہ کے قریش تھے اور شمال میں دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر خیبر کے یہودی۔ قریش اور یہودی، اسلام دشمنی میں متفق الرائے ہونے کے باوجود، اکیلے اکیلے اتنے طاقت ور نہ تھے کہ تنہا اسلام کو ختم کرنے کا حوصلہ کر سکیں۔ اسی لئے ان کے درمیان مشترکہ جنگی اقدام کی سازشیں چل رہی تھیں ۔ دوسری طرف سلمان بھی اس پوزیشن میں نہ تھے کہ بیک وقت اپنے دونوں دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں۔ ان حالات میں آپ نے ربانی تدبر کے تحت ذی قعدہ ستھ میں اپنے ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف کوچ کر دیا، اور اعلان فرمایا کہ ہم کسی کے خلاف جنگ کے لئے نہیں جا رہے ہیں، بلکہ عمرہ کرنے کے لئے جارہے ہیں۔ قربانی کے جانوروں کا قافلہ بھی آپ نے اپنے ساتھ لے لیا۔ حتی کہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page