Urdu book · اسلام

ہجرت

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

اونٹوں کو قربانی کا نشان (قلادہ) بھی پہنانے کا حکم دیا تاکہ مکہ والوں کو بخوبی معلوم ہو جائے کہ آپ زیارت کعبہ اور قربانی ہی کے لئے آئے ہیں۔ اس سفر کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ قریش پر اس بات کا مظاہرہ ہو کہ آپ کا مقصد کعبہ کی مذہبی یا تجارتی حیثیت کو ختم کرنا نہیں ہے۔ مکہ سے تقریباً گیارہ کلومیٹر کے قریب حدیبیہ کے مقام تک پہنچے تھے کہ حسب توقع قریش نے آگے بڑھ کر روکا۔ آپ نے جھگڑے سے بچتے ہوئے وہیں پڑاؤ ڈال دیا اور قریش کو پیغام بھیجا کہ ہمارے اور تمہارے در میان صلح کا معاہدہ ہو جائے : انا لم نجئ لقتال احد ولكن جئنا معتمرین دان ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں، بلکہ صرف عمرہ کے قریش قد نهلكتهم الحرب واضرت بهم لئے آئے ہیں۔ جنگ نے قریش کا برا حال کر دیا ہے فان شاؤا ماد دتهم مدة ويمخلوا بيني وبين اور ان کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو الناس، فان اظهر فان شاؤا ان يدخلوا فيما میں ان کے لئے ایک مدت (جنگ نہ کرنے کی) مقرر دخل فيه الناس فعلوا والا نقد بهموا، و کر دوں اور وہ میرے اور لوگوں کے درمیان سے ان هم ابوا فو الذی نفسی بیدہ لا قاتلنهم علی ہٹ جائیں۔ اگر میں غالب رہوں تو وہ چاہیں تو اس امرى هذا حتى تنفی د سالفتی ولی نفذن دین میں داخل ہو جائیں گے جس میں لوگ داخل ہوئے امر الله (صحیح بخاری) اور مجھے غلبہ نہ ہوتا تو ان کا مدعا حاصل ہے اور اگر قریش نے اس سے انکار کیا تو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میں اس معاملہ میں ان سے لڑوں گا خواہ میری گردن الگ ہو جائے اور اللہ کا امر پورا ہو کر رہے گا۔ یہ پیغام در حقیقت خود قریش کے اندر موجود ایک فکر سے فائدہ اٹھانا تھا۔ مکہ کے ابتدائی دور میں جب عتبہ بن ربیعہ قریش کے ایک نمائندہ کی حیثیت سے آپ سے ملا اور آپ سے گفتگو کے بعد قریش کی طرف لوٹا تو ایک روایت کے مطابق اس نے جو باتیں قریش سے کہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی : وان تركوا الرجل واعتزلوه، فو الله ماهو تبارك اس آدمی کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ خدا کی قسم وہ ما هو عليه وخلوا بينه وبين سائر العرب اپنی بات سے باز آنے والا نہیں۔ تم ان کے اور تمام فان يظهر عليهم يكن شرفه شهر فلكم وعزه عرب کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔ اگر وہ عرب پر غالب عنكم وان يظهروا عليه قد كفيتموه بغيدكم آگئے تو ان کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور اگر وہ مغلوب البدایه والنهایه ہو گئے تو تم دوسروں کے ہاتھوں ان سے نجات پالو گے۔ یہ فکر جو خود قریش کے اندر دبا ہوا موجود تھا۔ اسی کو آپ نے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود دشمن کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page