ہجرت
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کو اپنے نقطہ نظر کے حامی مل گئے ۔ ایک طرف آپ نے یہ پیغام کہلایا ۔ دوسری طرف قریش کو مختلف طریقوں سے متاثر کرنے کا عمل بھی شروع ہو گیا ۔ بدیل نامی کا ایک شخص مکہ سے روانہ ہو کر حدیبیہ پہنچا تا کہ یہ معلوم کرے کہ مسلمان کس لئے آئے ہیں ۔ لوگوں نے آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص کے قبیلہ میں قربانی کے اونٹوں کی تعظیم کی جاتی ہے تم لوگ اپنے قربانی کے اونٹوں کو لے کر اس کا استقبال کرو، مسلمانوں نے اونٹوں کا قافلہ بنایا اور لبیک اللہم لبیک پڑھتے ہوئے اس کے سامنے سے گزر رے۔ یہ شخص مکہ واپس ہوا تو بہت متاثر تھا۔ اس نے قریش سے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ مسلمان صرف زیارت کعبہ کی غرض سے آ رہے ہیں انہیں روکا نہ جائے ۔ اسی طرح ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کے ایمان و اسلام کا مظاہرہ بھی انہیں شدید طور پر متاثر کرتا تھا ، قریش کا ایک سفیر جب حدیبیہ پہنچا تو مسلمان صف بندی کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز کے ضبط و نظم کا منظر دیکھ کر وہ اتنا مرعوب ہوا کہ واپس ہو کر قریش سے کہا کہ مسلمانوں کا اتحاد اتنا زبردست ہے کہ ساری کی ساری قوم محمد کے ایک اشارے پر حرکت کرتی ہے ۔ ایک سفیر نے دیکھا کہ پیغمبر اسلام جب وضو کرتے ہیں تو مسلمان دوڑتے ہیں کہ ان کے غسالہ کو زمین پر گرنے سے پہلے اپنے ہاتھوں میں لے لیں ۔ جب وہ بولتے ہیں تو سب کی آوازیں پست ہو جاتی ہیں ۔ وہ ادب و تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف دیکھتے تک نہیں ۔ سفیر نے واپس ہو کر قریش سے مسلمانوں کی اس وفاداری اور محبت کا ذکر کیا تو وہ سخت مرعوب ہوئے۔ بدیل بن ورقار الخزاعی کے ذریعہ جب مذکورہ پیغام قریش کو پہنچا تو ان کے ایک شخص (عروہ بن مسعود) نے تقریر کی : مقام عروہ بن مسعود فقال : ای قوم: الستم اے میری قوم! کیا تم میں سے کچھ لوگ میرے والد کے برابر بالوالد قالوا بلی۔ قال الستم بالولد۔ قالوا بلیٰ - نہیں ہے لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، عروہ نے کہا، کیا تم قال فهل تتهمونی قالوالا ، قال فان هذا میں سے کچھ میری اولاد کے برابر نہیں۔ لوگوں نے کہا قد عرض علیکم خطة رشد اقبلوها و کیوں نہیں۔ عروہ نے کہا کیا تمھیں میرے اوپر کوئی دعونی آتیه (البدایہ والنہایہ) شک ہے۔ لوگوں نے کہا نہیں۔ عروہ نے کہا اس آدمی نے تمھارے سامنے ایک بہترین تجویز پیش کی ہے ، تم اس کو مان لو اور مجھے جانے دو کہ میں ان سے بات کروں ۔ آپ نے اعلان کر دیا کہ قریش جس چیز کا بھی مطالبہ کریں گے ، میں اس کو مان لوں گا (والذی نفسی بید کا لا يسألونى خطة يعظمون فيها حرمات الله الا اعطيتهم اياها) تاہم نا جنگ معاہدہ لکھا جانے لگا تو انھوں نے طرح طرح سے حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کیا ، معاہدہ کے مسودہ سے " محمد رسول اللہ " کو مٹا کر محمد بن عبد اللہ لکھوایا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بجائے بسمك اللهم لکھنے پر اصرار کیا۔ یہ دفعہ بڑھی کہ قریش کا کوئی آدمی مسلمانوں کے ہاتھ لگے تو وہ اس کو واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس کے برعکس کوئی مسلمان قریش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader